حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 551
551 ساتویں فصل شادی مہر اور طلاق نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُم وَقَدِمُوا لأنفُسِكُمْ وَ اتَّقُوا اللهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلْقُوهُ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ۔(البقرة:224) اسلام نے نکاح کرنے سے علت غائی ہی یہی رکھی ہے کہ تا انسان کو وجہ حلال سے نفسانی شہوات کا وہ علاج میسر آوے جو ابتدا سے خدا تعالیٰ کے قانون قدرت میں رکھا گیا ہے اور اس طرح اس کو عفت اور پر ہیز گاری حاصل ہو کر نا جائز اور حرام شہوت رانیوں سے بچار ہے کیا جس نے اپنی پاک کلام میں فرمایا کہ نِسَاؤُكُمْ حَرُتْ لكُم یعنی تمھاری عورتیں تمھاری کھیتیاں ہیں اس کی نسبت کہ سکتے ہیں کہ اس کی غرض صرف یہ تھی کہ تالوگ شہوت رانی کریں اور کوئی مقصد نہ ہو کیا کھیتی سے صرف لہو ولعب ہی غرض ہوتی ہے یا یہ مطلب ہوتا ہے کہ جو بیج بویا گیا ہے اس کو کامل طور پر حاصل کر لیں۔پھر میں کہتا ہوں کہ کیا جس نے اپنی مقدس کلام میں فرمایا۔مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ۔(النساء: 25) یعنی تمھارے نکاح کا یہ مقصود ہونا چاہیے کہ تمھیں عفت اور پر ہیز گاری حاصل ہو اور شہوت کے بدنتائج سے بچ جاؤ۔یہ نہیں مقصود ہونا چاہیے کہ تم حیوانات کی طرح بغیر کسی پاک غرض کے شہوت کے بندے ہو کر اس کام میں مشغول ہو کیا اس حکیم خدا کی نسبت یہ خیال کر سکتے ہیں کہ اس نے اپنی تعلیم میں مسلمانوں کو صرف شہوت پرست بنانا چاہا اور یہ باتیں فقط قرآن شریف میں نہیں بلکہ ہماری معتبر حدیث کی دو کتابیں بخاری اور مسلم میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی روایت ہے۔آریہ دھرم۔ر۔خ۔جلد 10 صفحہ 44) مہر وا تُوهُنَّ اُجُورَهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ۔(النساء: 26) (مہر کی مقدار کس قدر ہو؟) فرمایا کہ تراضی طرفین سے جو ہو اس پر کوئی حرف نہیں آتا۔اور شرعی مہر سے یہ مراد نہیں کہ نصوص یا احادیث میں کوئی اس کی حد مقرر کی گئی ہے بلکہ اس سے مراد اس وقت کے لوگوں کے مروجہ مہر سے ہوا کرتی ہے ہمارے ملک میں یہ خرابی ہے کہ نیت اور ہوتی ہے اور محض نمود کے لیے لاکھ لاکھ روپے کا مہر ہوتا ہے۔صرف ڈراوے کے لیے یہ لکھا جایا کرتا ہے کہ مرد قابو میں رہے اور اس سے پھر دوسرے نتائج خراب نکل سکتے ہیں نہ عورت والوں کی نیت لینے کی ہوتی ہے اور نہ خاوند کی دینے کی۔میرا مذ ہب یہ ہے کہ جب ایسی صورت میں تنازعہ آ پڑے تو جب تک اس کی نیت یہ ثابت نہ ہو کہ ہاں رضا ورغبت سے وہ اسی قدر مہر پر آمادہ تھا جس قدر کہ مقررہ شدہ ہے تب تک مقرر شدہ نہ دلایا جاوے اور اس کی حیثیت اور رواج وغیرہ کومد نظر رکھ کر پھر فیصلہ کیا جاوے کیونکہ بدنیتی کی اتباع نہ شریعت کرتی ہے اور نہ قانون۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ 284)