حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 553 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 553

553 تہدید کے نیچے رہ کر جو شخص زندگی بسر کرتا ہے وہی ان کی بجا آوری کا دم بھر سکتا ہے۔ایسے لذات کی نسبت جن سے خدا تعالیٰ کا تازیانہ ہمیشہ سر پر رہے تلخ زندگی بسر کر لینی ہزار ہا درجہ بہتر ہے تعد ازواج کی نسبت اگر ہم تعلیم دیتے ہیں تو صرف اس لیے کہ معصیت میں پڑنے سے انسان بیچار ہے اور شریعت نے اسے بطور علاج کے ہی رکھا ہے کہ اگر انسان اپنے نفس کا میلان اور غلبہ شہوات کی طرف دیکھے اور اس کی نظر بار بار خراب ہوتی ہو تو زنا سے بچنے کے لیے دوسری شادی کر لے لیکن پہلی بیوی کے حقوق تلف نہ کرے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 49-48) دوسری شادی کی اجازت اگر چہ عورت بجائے خود پسند نہیں کرتی کہ کوئی اور اس کی سوت آوے مگر اسلام نے جس اصول پر کثرت ازدواج کو رکھا ہے وہ تقویٰ کی بنا پر ہے۔بعض وقت اولا د نہیں ہوتی اور بقائے نوع کا خیال انسان میں ایک فطرتی تقاضا ہے اس لیے دوسری شادی کرنے میں کوئی عیب نہیں ہوتا۔بعض اوقات پہلی بیوی کسی خطرناک مرض میں مبتلا ہو جاتی ہے اور بہت سے اسباب اس قسم کے ہوتے ہیں پس اگر عورتوں کو پورے طور پر خدا تعالیٰ کے احکام سے اطلاع دی جاوے اور انہیں آگاہ کیا جاوے تو وہ خود بھی دوسری شادی کی ضرورت پیش آنے پر ساعی ہوتی ہیں۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 585-584) وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَّ يَجْعَلَ اللهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا۔(النساء:20) در حقیقت نکاح مرد اور عورت کا باہم ایک معاہدہ ہے۔پس کوشش کرو کہ اپنے معاہدہ میں دغا باز نہ ظہر و اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ (النساء:20) یعنی اپنی بیویوں کے ساتھ نیک سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرو۔اور حدیث میں ہے۔خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لا هُلِہ یعنی تم میں سے اچھا وہی ہے جو اپنی بیوی سے اچھا ہے۔سوروحانی اور جسمانی طور پر اپنی بیویوں سے نیکی کرو۔ان کے لیے دعا کرتے رہو اور طلاق سے پر ہیز کرو کیونکہ نہایت بد خدا کے نزدیک وہ شخص ہے جو طلاق دینے میں جلدی کرتا ہے۔جس کو خدا نے جوڑا ہے اس کو ایک گندے برتن کی طرح جلد مت توڑو۔(تحفہ گولڑویہ۔ر۔خ۔جلد 17 صفحہ 75 حاشیہ ) چاہیئے کہ بیویوں سے خاوند کا ایسا تعلق ہو جیسے دو بچے اور حقیقی دوستوں کا ہوتا ہے انسان کے اخلاق فاضلہ اور خدا سے تعلق کی پہلی گواہ تو یہی عورتیں ہوتی ہیں اگر انہی سے اس کے تعلقات اچھے نہیں ہیں تو پھر کس طرح ممکن ہے۔کہ خدا سے صلح ہو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لَاهْلِهِ تم میں سے اچھاوہ ہے جو اپنے اہل کے لیے اچھا ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 301-300)