حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 510 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 510

510 قبضہ کرے تو تو ان کے عبادت خانوں سے کچھ تعرض نہ کرے اور منع کر دے کہ ان کے گرجے مسمار نہ کئے جائیں اور یہی ہدایت احادیث نبویہ سے مفہوم ہوتی ہے کیونکہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جبکہ کوئی اسلامی سپہ سالار کسی قوم کے مقابلہ کے لئے مامور ہوتا تھا تو اس کو یہ حکم دیا جاتا تھا کہ وہ عیسائیوں اور یہودیوں کے عبادت خانوں اور فقراء کے خلوت خانوں سے تعرض نہ کرے اس سے ظاہر ہے کہ اسلام کس قدر تعصب کے طریقوں سے دور ہے کہ وہ عیسائیوں کے گر جاؤں اور یہودیوں کے معبدوں کا ایسا ہی حامی ہے جیسا کہ مساجد کا حامی ہے۔ہاں البتہ اس خدا نے جو اسلام کا بانی ہے یہ نہیں چاہا کہ اسلام دشمنوں کے حملوں سے فنا ہو جائے بلکہ اس نے دفاعی جنگ کی اجازت دی ہے اور حفاظت خود اختیاری کے طور پر مقابلہ کرنے کا اذن دے دیا ہے۔(چشمہ معرفت۔رخ۔جلد 23 صفحہ 394-393) جو حکومت شریعت کے خلاف حکم نہیں دیتی اس کی اطاعت لازم ہے يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأمْرِ مِنكُمُ فَإِنْ تَنَازَعْتُمُ فِى شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَأْوِيلًا۔(النساء:60) قرآن میں حکم ہے۔اَطِيْعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمُ۔اب اولی الامركي اطاعت کا صاف حکم ہے۔اور اگر کوئی کہے کہ گورنمنٹ منکم میں داخل نہیں۔تو یہ اس کی صریح غلطی ہے۔گورنمنٹ جو بات شریعت کے موافق کرتی ہے۔وہ منکم میں داخل ہے۔جو ہماری مخالفت نہیں کرتا۔وہ ہم میں داخل ہے۔اشارۃ النص کے طور پر قرآن سے ثابت ہوتا ہے۔کہ گورنمنٹ کی اطاعت کرنی چاہیئے۔اور اس کی (رسالہ الانذار صفحہ 69) باتیں مان لینی چاہیئے۔أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأمْرِ مِنْكُمُ يعنی اللہ اور رسول اور اپنے بادشاہوں کی (شہادت القرآن۔۔۔خ۔جلد 6 صفحہ 332) تابعداری کرو۔أولى الامر سے مراد جسمانی طور پر بادشاہ اور روحانی طور پر امام الزمان ہے۔اور جسمانی طور پر جو شخص ہمارے مقاصد کا مخالف نہ ہو اور اس سے مذہبی فائدہ ہمیں حاصل ہو سکے وہ ہم میں سے ہے۔( ضرورت الامام۔ر۔خ۔جلد 13 صفحہ 493)