حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 509 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 509

اسلامی جہاد اور لونڈیاں 509۔اَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَالِكَ اَدْنى اَلَّا تَعُولُوا۔الـ ا۔(النساء : 4) نکاح کی اصل حقیقت یہ ہے کہ عورت اور اس کے ولی کی اور نیز مرد کی رضامندی لی جاتی ہے لیکن جس حالت میں ایک عورت اپنی آزادی کے حقوق کھو چکی ہے اور وہ آزاد نہیں بلکہ وہ ان ظالم طبع جنگ جولوگوں میں سے ہے جنہوں نے مسلمانوں کے مردوں اور عورتوں پر بیجا ظلم کیے ہیں تو ایسی عورت جب گرفتار ہو کر اپنے اقارب کے جرائم کی پاداش میں لونڈی بنائی گئی تو اس کی آزادی کے حقوق سب تلف ہو گئے لہذا وہ اب فتح یاب بادشاہ کی لونڈی ہے اور ایسی عورت کو حرم میں داخل کرنے کے لیے اس کی رضا مندی کی ضرورت نہیں بلکہ اس کے جنگجو اقارب پر فتحیاب ہو کر اس کو اپنے قبضہ میں لانا یہی اس کی رضا مندی ہے یہی حکم تو ریت میں بھی موجود ہے ہاں قرآن شریف میں فک رقبۃ یعنی لونڈی غلام کو آزاد کرنا بڑے ثواب کا کام بیان فرمایا ہے اور عام مسلمانوں کو رغبت دی ہے کہ اگر وہ ایسی لونڈیوں اور غلاموں کو آزاد کر دیں تو خدا کے نزدیک بڑا اجر حاصل کریں گے اگر چہ مسلمان بادشاہ ایسے خبیث اور چنڈال لوگوں پر فتح یاب ہو کر غلام اور لونڈی بنانے کا حق رکھتا ہے مگر پھر بھی بدی کے مقابل پر نیکی کرنا خدا نے پسند فرمایا ہے یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ ہمارے زمانہ میں اسلام کے مقابل پر جو کافر کہلاتے ہیں انہوں نے یہ تعدی اور زیادتی کا طریق چھوڑ دیا ہے اس لیے اب مسلمانوں کے لیے بھی روا نہیں کہ ان کے قیدیوں کو لونڈی غلام بناویں کیونکہ خدا قرآن شریف میں فرماتا ہے جو تم جنگجو فرقہ کے مقابل پر صرف اسی قدر زیادتی کرو جس میں پہلے انہوں نے سبقت کی ہو پس جبکہ اب وہ زمانہ نہیں ہے اور اب کافر لوگ جنگ کی حالت میں مسلمانوں کے ساتھ ایسی سختی اور زیادتی نہیں کرتے کہ ان کو اور ان کے مردوں اور عورتوں کو لونڈیاں اور غلام بنا دیں بلکہ وہ شاہی قیدی سمجھے جاتے ہیں اس لیے اب اس زمانہ میں مسلمانوں کو بھی ایسا کرنا نا جائز اور حرام ہے۔(چشمہ معرفت۔۔خ۔جلد 23 صفحہ 253 حاشیہ) اسلام کا خدا تمام عبادت خانوں کا حامی اور محافظ ہے وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهُ النَّاسَ بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَّ صَلَواتٌ وَّ مَسْجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللهِ كَثِيرًا ط وَ لَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ۔(الحج : 41) یعنی اگر خدا تعالیٰ کی یہ عادت نہ ہوتی کہ بعض کو بعض کے ساتھ دفع کرتا تو ظلم کی نوبت یہاں تک پہنچتی کہ گوشہ گزینوں کے خلوت خانے ڈھائے جاتے اور عیسائیوں کے گرجے مسمار کئے جاتے اور یہودیوں کے معبد نابود کئے جاتے اور مسلمانوں کی مسجدیں جہاں کثرت سے ذکر خدا ہوتا ہے منہدم کی جاتیں۔اس جگہ خدا تعالیٰ یہ ظاہر فرماتا ہے کہ ان تمام عبادت خانوں کائیں ہی حامی ہوں اور اسلام کا فرض ہے کہ اگر مثلا کسی عیسائی ملک پر