حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 511
511 چوتھی فصل تعریف البام وحی والہام وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلَّمَهُ اللهُ إِلَّا وَحْيَا أَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولاً فَيُوْحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَآءُ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ۔(الشورى: 52) الہام ایک القاء غیبی ہے کہ جس کا حصول کسی طرح کی سوچ او تر ڈدا ور تفکر اور تدبیر پر موقوف نہیں ہوتا اور ایک واضح اور منکشف احساس ہے کہ جیسے سامع کو متکلم سے یا مضروب کو ضارب سے یا ملموس کولامس سے ہو محسوس ہوتا ہے اور اس سے نفس کو مثل حرکات فکریہ کے کوئی الم روحانی نہیں پہنچتا بلکہ جیسے عاشق اپنے معشوق کی رؤیت سے بلا تکلف انشراح اور انبساط پاتا ہے ویسا ہی روح کو الہام سے ایک ازلی اور قدیمی رابطہ ہے کہ جس سے روح لذت اٹھاتا ہے۔غرض یہ منجانب اللہ اعلام لذیذ ہے کہ جس کو نفث فی الروع اور وحی بھی کہتے ہیں۔پرانی تحریریں۔۔۔خ۔جلد 2 صفحہ 20) إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ۔ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ إِلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَ اَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِى كُنتُمْ تُوعَدُونَ۔(حم السجده: 31) الہام کیا چیز ہے؟ وہ پاک اور قادر خدا کا ایک برگزیدہ بندہ کے ساتھ یا اس کے ساتھ جس کو برگزیدہ کرنا چاہتا ہے ایک زندہ اور باقدرت کلام کے ساتھ مکالمہ اور مخاطبہ ہے۔سو جب یہ مکالمہ اور مخاطبہ کافی اور تسلی بخش سلسلہ کے ساتھ شروع ہو جائے اور اس میں خیالات فاسدہ کی تاریکی نہ ہواور نہ غیر متفھی اور چند بے سر و پا لفظ ہوں اور کلام لذیذ اور پُر حکمت اور پُر شوکت ہو تو وہ خدا کا کلام ہے جس سے وہ اپنے بندے کو تسلی دنیا چاہتا ہے اور اپنے تئیں اس پر ظاہر کرتا ہے۔ہاں کبھی ایک کلام محض امتحان کے طور پر ہوتا ہے اور پورا اور بابرکت سامان ساتھ نہیں رکھتا۔اس میں خدائے تعالیٰ کے بندہ کو اس کی ابتدائی حالت میں آزمایا جاتا ہے تا وہ ایک ذرہ الہام کا مزہ چکھ کر پھر واقعی طور پر اپنا حال وقال بچے ملہموں کی طرح بناوے یا ٹھو کر کھاوے۔پس اگر وہ حقیقی راست بازی صدیقوں کی طرح اختیار نہیں کرتا تو اس نعمت کے کمال سے محروم رہ جاتا ہے اور صرف بیہودہ لاف زنی اس کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔کروڑ ہا نیک بندوں کو الہام ہوتا رہا ہے مگر ان کا مرتبہ خدا کے نزدیک ایک درجہ کا نہیں بلکہ خدا کے پاک نبی جو پہلے درجہ پر کمال صفائی سے خدا کا الہام پانے والے ہیں وہ بھی مرتبہ میں برابر نہیں۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔۔۔خ۔جلد 10 صفحہ 439-438)