حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 505
505 تمام سچے مسلمان جو دنیا میں گذرے کبھی ان کا یہ عقیدہ نہیں ہوا کہ اسلام کو تلوار سے پھیلا نا چاہیئے بلکہ ہمیشہ اسلام اپنی ذاتی خوبیوں کی وجہ سے دنیا میں پھیلا ہے۔پس جو لوگ مسلمان کہلا کر صرف یہی بات جانتے ہیں کہ اسلام کو تلوار سے پھیلانا چاہیئے وہ اسلام کی ذاتی خوبیوں کے معترف نہیں ہیں اور ان کی کارروائی درندوں کی کارروائی تریاق القلوب۔ر۔خ۔جلد 15 صفحہ 167 حاشیہ ) سے مشابہ ہے۔معجزات اور نشان دکھا کر غرض یہ خیالات بھی کہ گویا کسی زمانہ میں کوئی مسیح اور مہدی اس غرض سے آئے گا کہ تا کافروں سے جنگ کر کے دین اسلام کو پھیلا دے یہ خیالات اس قدر بیہودہ اور لغو ہیں کہ خود قرآن شریف ان کے رد کرنے کے لئے کافی ہے۔جس دین کے ہاتھ میں ہمیشہ اور ہر زمانہ میں آسمانی معجزات اور نشانات موجود ہیں اور حکمت اور حق سے بھرا ہوا ہے اس کو دین پھیلانے کے لئے زمینی ہتھیاروں کی کیا ضرورت ہے اس کا جنگ خدا کی چمکدار تائیدوں کے ساتھ ہے نہ لوہے کی تلوار کے ساتھ کاش دیوا نہ طبع مکہ کے کافر اسلام کو تلوار سے نابود کرنا نہ چاہتے تا خدا یہ طریق پسند نہ کرتا کہ وہ تلوار سے ہی مارے جائیں۔پیغام صلح - ر- خ - جلد 23 صفحہ 396 ) اس زمانہ میں جو تیرہ سو برس عہد نبوت کو گزر گئے اور خود اسلام اندرونی طور پر تہتر فرقوں پر پھیل گیا۔سچے مسیح کا یہ کام ہونا چاہیئے کہ دلائل کے ساتھ دلوں پر فتح پاوے نہ تلوار کے ساتھ اور صلیبی عقیدہ کو واقعی اور بچے ثبوت کے ساتھ توڑ دے نہ یہ کہ ان صلیبوں کو توڑتا پھرے جو چاندی یا سونے یا پیتل یا لکڑی سے بنائی جاتی ہیں اگر تم جبر کرو گے تو تمہارا جبر اس بات پر کافی دلیل ہے کہ تمہارے پاس اپنی سچائی پر کوئی دلیل نہیں۔ہر یک نادان اور ظالم طبع جب دلیل سے عاجز آ جاتا ہے تو پھر تلوار یا بندوق کی طرف ہاتھ لمبا کرتا ہے مگر ایسا مذہب ہرگز ہرگز خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوسکتا جو صرف تلوار کے سہارے سے پھیل سکتا نہ کسی اور طریق سے اگر تم ایسے جہاد سے باز نہیں آ سکتے اور اس پر غصہ میں آ کر راستبازوں کا نام بھی دجال اور ملحد رکھتے ہو تو ہم ان دو فقروں پر اس تقریر کو ختم کرتے ہیں۔فل يَأَيُّهَا الْكَافِرُونَ لَا اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ (الكافرون : 32) اندرونی تفرقہ اور پھوٹ کے زمانہ میں تمہارا فرضی مسیح اور فرضی مہدی کس کس پر تلوار چلائے گا کیا سنیوں کے نزدیک شیعہ اس لائق نہیں کہ ان پر تلوار اٹھائی جائے اور شیعوں کے نزدیک سنی اس لائق نہیں کہ ان سب کو تلوار سے نیست و نابود کیا جاوے پس جبکہ تمہارے اندرونی فرقے ہی تمہارے عقیدہ کی رو سے مستوجب سزا ہیں تو تم کس کس سے جہاد کرو گے۔مگر یاد رکھو کہ خدا تلوار کا محتاج نہیں وہ اپنے دین کو آسمانی نشانوں کے ساتھ زمین پر پھیلائے گا اور کوئی اس کو روک نہیں سکے گا۔کشتی نوح۔ر۔خ۔جلد 19 صفحہ 76-75)