حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 468
468 الہام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام : - قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ اربعین - رخ۔جلد 17 صفحہ 410 حاشیہ ) یہ مقام ہماری جماعت کے لئے سوچنے کا مقام ہے کیونکہ اس میں خداوند قد بر فرماتا ہے کہ خدا کی محبت اس سے وابستہ ہے کہ تم کامل طور پر پیرو ہو جاؤاور تم میں ایک ذرہ مخالفت باقی نہ رہے اور اس جگہ جو میری نسبت کلام الہی میں رسول اور نبی کا لفظ اختیار کیا گیا ہے کہ یہ رسول اور نبی اللہ ہے یہ اطلاق مجاز اور استعارہ کے طور پر ہے کیونکہ جو شخص خدا سے براہ راست وحی پاتا ہے اور یقینی طور پر خدا اس سے مکالمہ کرتا ہے جیسا کہ نبیوں سے کیا اس پر رسول یا بنی کا لفظ بولنا غیر موزوں نہیں ہے بلکہ یہ نہایت فصیح استعارہ ہے اسی وجہ سے صحیح بخاری اور صحیح مسلم اور انجیل اور دانی ایل اور دوسرے نبیوں کی کتابوں میں جہاں میراذ کر کیا گیا ہے وہاں میری نسبت نبی کا لفظ بولا گیا ہے۔(اربعین۔رخ۔جلد 17 صفحہ 413 حاشیہ ) حضرت اقدس کی نبوت دراصل نبوت محمدیہ ہے اب بحر محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے مگر وہی جو پہلے امتی ہو۔پس اسی بناء پر میں انتی بھی ہوں اور نبی بھی۔اور میری نبوت یعنی مکالمہ مخاطبہ الہیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ایک خلق ہے اور بجر اس کے کہ میری نبوت کچھ بھی نہیں وہی نبوت محمد یہ ہے جو مجھ میں ظاہر ہوئی ہے اور چونکہ میں محض ظل ہوں اور امتی ہوں اس لئے آنجناب کی اس سے کچھ کسر شان نہیں اور یہ مکالمہ الہیہ جو مجھے سے ہوتا ہے یقینی ہے۔اگر میں ایک دم کے لئے بھی اس میں شک کروں تو کافر ہو جاؤں اور میری آخرت تباہ ہو جائے وہ کلام جو میرے پر نازل ہوا یقینی او قطعی ہے اور جیسا کہ آفتاب اور اسکی روشنی کو دیکھ کر کوئی شک نہیں کر سکتا کہ یہ آفتاب اور یہ اس کی روشنی ہے۔ایسا ہی میں اس کلام میں بھی شک نہیں کر سکتا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے پر نازل ہوتا ہے اور میں اس پر ایسا ہی ایمان لاتا ہوں جیسے کہ خدا کی کتاب پر۔یہ تو ممکن ہے کہ کلام الہی کے معنے کرنے میں بعض مواقع میں ایک وقت تک مجھ سے خطا ہو جائے مگر یہ ممکن نہیں کہ میں شک کروں کہ وہ خدا کا کلام نہیں۔اور چونکہ میرے نزدیک نبی اسی کو کہتے ہیں جس پر خدا کا کلام یقینی بکثرت نازل ہو جو غیب پر مشتمل ہو اسی لئے خدا نے میرا نام نبی رکھا مگر بغیر شریعت کے۔شریعت کا حامل قیامت تک قرآن شریف ہے۔تجلیات الہیہ۔ر۔خ۔جلد 20 صفحہ 412) اللہ تعالیٰ نے اپنی کلام پاک میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی کے باپ ہونے کی نفی کی ہے لیکن بروز کی خبر دی ہے اگر بروز صحیح نہ ہوتا تو پھر آپ و آخرین منھم میں ایسے موعود کے رفیق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کیوں ٹھہرتے اور نفی بروز سے اس آیت کی تکذیب لازم آتی ہے۔جسمانی خیال کے لوگوں نے کبھی اس موعود کو حسن کی اولاد بنایا اور کبھی حسین کی اور کبھی عباس کی لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا صرف یہ مقصود تھا کہ وہ فرزندوں کی طرح اس کا وارث ہو گا۔اس کے نام کا وارث اس کے خلق کا وارث اس کے علم کا وارث اس کی روحانیت کا وارث اور ہر ایک پہلو سے اپنے اندر اس کی تصویر دکھلائے گا اور وہ اپنی طرف سے نہیں بلکہ سب کچھ اس سے لے گا اور اس میں