حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 469 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 469

469 فنا ہو کر اس کے چہرے کو دکھائے گا۔پس جیسا کہ ظلی طور پر اس کا نام لے گا اس کا خلق لے گا اس کا علم لے گا ایسا ہی اس کا نبی لقب بھی لے گا کیونکہ بروزی تصویر پوری نہیں ہو سکتی جب تک کہ یہ تصویر ہر ایک پہلو سے اپنے اصل کے کمال اپنے اندر نہ رکھتی ہو۔پس چونکہ نبوت بھی نبی میں ایک کمال ہے اس لئے ضروری ہے کہ تصویر بروزی میں وہ کمال بھی نمودار ہو۔تمام بنی اس بات کو مانتے چلے آئے ہیں کہ وجود بروزی اپنے اصل کی پوری تصویر ہوتی ہے یہاں تک کہ نام بھی ایک ہو جاتا ہے۔پس اس صورت میں ظاہر ہے کہ جس طرح بروزی طور پر محمد اور احمد نام رکھے جانے سے دو محمد اور دو احمد نہیں ہو گئے اسی طرح بروزی طور پر نبی یا رسول کہنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ خاتم النبیین کی مہر ٹوٹ گئی کیونکہ وجود بروزی کوئی الگ وجود نہیں اس طرح پر تو محمد کے نام کی نبوت محمدصلی اللہ علیہ وسلم تک ہی محدود رہی۔تمام انبیاء علیہم السلام کا اس پر اتفاق ہے کہ بروز میں دُوئی نہیں ہوتی کیونکہ بروز کا مقام اس مضمون کا مصداق ہوتا ہے کہ من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی تاکس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری ( ترجمہ:۔میں تم ہو گیا اور تم میں ہو گئے۔میں جسم اور تم جان ہو گئے۔یہ اس لئے ہوا کہ تا کوئی یہ نہ کہے کہ میں اور ہوں اور تم کوئی اور ہو ) ایک غلطی کا ازالہ۔ر۔خ۔جلد 18 صفحہ 214-213) معیار صدق دعویٰ وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيْلَ۔لَاخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ۔ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ۔(الحاقة 47-45) خدا تعالیٰ قرآن شریف میں ایک شمیشر برہنہ کی طرح یہ حکم فرماتا ہے کہ یہ نبی اگر میرے پر جھوٹ بولتا اور کسی بات میں افتراء کرتا تو میں اس کی رگ جان کاٹ دیتا اور اس مدت دراز تک وہ زندہ نہ رہ سکتا۔تو اب جب ہم اپنے اس مسیح موعود کو اس پیمانہ سے ناپتے ہیں تو براہین احمدیہ کے دیکھنے سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دعویٰ منجانب اللہ ہونے اور مکالمات الہیہ کا قریباً تیس برس سے ہے اور اکیس برس سے براہین احمدیہ شائع ہے پھر اگر اس مدت تک اس مسیح کا ہلاکت سے امن میں رہنا اس کے صادق ہونے پر دلیل نہیں ہے۔۔۔کیونکہ جبکہ خدا تعالیٰ نے اس جگہ ایک جھوٹے مدعی ء رسالت کو تیس برس تک مہلت دی اور لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا کے وعدہ کا کچھ خیال نہ کیا تو اس طرح نعوذ باللہ یہ بھی قریب قیاس ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی باوجود کاذب ہونے کے مہلت دے دی ہومگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کا ذب ہونا محال ہے۔پس جو مستلزم محال ہو وہ بھی محال۔اور ظاہر ہے کہ یہ قرآنی استدلال بدیہی الظہور جبھی ٹھہر سکتا ہے جبکہ یہ قاعدہ کی مانا جائے کہ خدا اس مفتری کو جو خلقت کے گمراہ کرنے کیلئے مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہو کبھی مہلت نہیں دیتا کیونکہ اس طرح پر اس کی بادشاہت میں گڑ بڑ پڑ جاتا ہے اور صادق اور کاذب میں تمیز اٹھ جاتی ہے۔تحفہ گولڑویہ۔ر- خ - جلد 17 صفحہ 42)