حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 423 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 423

423 غرض سورت تبت میں غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کے فتنہ کی طرف اشارہ ہے اور ولا الضالین کے مقابل قرآن شریف کے آخر میں سورہ اخلاص ہے اور اس کے بعد کی دونوں سورتیں سورۃ الفلق اور سورۃ الناس ان دونوں کی تفسیر ہیں ان دونوں سورتوں میں اس تیرہ و تار زمانہ سے پناہ مانگی گئی ہے جب کہ مسیح موعود پر کفر کا فتویٰ لگا کر مغضوب علیہم کا فتنہ پیدا ہوگا اور عیسائیت کی ضلالت اور ظلمت دنیا پر محیط ہونے لگے گی۔پس جیسے سورہ فاتحہ میں جو ابتدائے قرآن ہے ان دونوں بلاؤں سے محفوظ رہنے کی دعا سکھائی گئی ہے اسی طرح قرآن شریف کے آخر میں بھی ان فتنوں سے محفوظ رہنے کی دعا تعلیم کی تاکہ یہ بات ثابت ہو جاوے کہ اول بآخر نسبتے دارد۔( ترجمہ اول کو آخر سے نسبت ہے۔) جیسے سورت فاتحہ کو الضالین پر ختم کیا تھا ویسے آخری سورت میں خناس کے ذکر پر ختم کیا تا کہ خناس اور ضالین کا تعلق معلوم ہو اور آدم کے وقت میں بھی خناس جس کو عبرانی زبان میں نحاش کہتے ہیں جنگ کے لئے آیا تھا۔اس وقت بھی مسیح موعود کے زمانہ میں جو آدم کا مثیل بھی ہے ضروری تھا کہ وہی نحاش ایک دوسرے لباس میں آتا اور اسی لئے عیسائیوں اور مسلمانوں نے باتفاق یہ بات تسلیم کی ہے کہ آخری زمانے میں آدم اور شیطان کی ایک عظیم الشان لڑائی ہوگی جس میں شیطان ہلاک کیا جاوے گا۔اب ان تمام امور کو دیکھ کر ایک خدا ترس آدمی ڈر جاتا ہے۔کیا یہ میرے اپنے بنائے ہوئے امور ہیں جو خدا نے جمع کر دیئے ہیں۔کس طرح پر ایک دائرہ کی طرح خدا نے اس سلسلہ کو رکھا ہوا ہے وَلَا الضَّالِّينَ پر سورت فاتحہ کو جو قرآن کا آغاز ہے ختم کیا اور پھر قرآن شریف کے آخر میں وہ سورتیں رکھیں جن کا تعلق سورت فاتحہ کے انجام سے ہے۔ادھر مسیح اور آدم کی مماثلت ٹھہرائی اور مجھے مسیح موعود بنایا تو ساتھ ہی آدم بھی میرا نام رکھا۔یہ باتیں معمولی نہیں ہیں یہ ایک علمی سلسلہ ہے جس کو کوئی رد نہیں کر سکتا کیونکہ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اس کی بنیاد رکھی ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 170 169)