حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 422
422 آخر قرآن میں فاتحہ کے مضامین کو دوبارہ بیان کیا گیا ہے سورۃ فاتحہ میں تین دعائیں سکھلائی گئی ہیں۔(۱) ایک یہ دعا کہ خدا تعالیٰ اس جماعت میں داخل رکھے جو صحابہ کی جماعت ہے اور پھر اس کے بعد اس جماعت میں داخل رکھے جو مسیح موعود کی جماعت ہے جن کی نسبت قرآن شریف فرماتا ہے وَاخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوْابِهِمْ (الجمعة: 4) غرض اسلام میں یہی دو جماعتیں منعم علیہم کی جماعتیں ہیں اور انہی کی طرف اشارہ ہے صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں کیونکہ تمام قرآن پڑھ کر دیکھو جماعتیں دو ہی ہیں۔ایک صحابہ رضی اللہ عنہم کی جماعت۔دوسری و آخرین منہم کی جماعت جو صحابہ کے رنگ میں ہے اور وہ مسیح موعود کی جماعت ہے۔پس جب تم نماز میں یا خارج نماز کے یہ دعا پڑھو کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ تو دل میں یہی محوظ رکھو کہ میں صحابہ اور مسیح موعود کی جماعت کی راہ طلب کرتا ہوں۔یہ تو سورۃ فاتحہ کی پہلی دعا ہے۔(۲) دوسری دعا غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ ہے جس سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسیح موعود کو دکھ دیں گے اور اس دعا کے مقابل پر قرآن شریف کے اخیر میں سورہ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ ہے۔(۳) تیسری دعاولا الضالین ہے۔اور اس کے مقابل پر قرآن شریف کے اخیر میں سورہ اخلاص ہے یعنی قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ وَلَمْ يَكُنْ لَّهُ كُفُوًا اَحَدٌ اور اس کے بعد دو اور سورتیں جو ہیں یعنی سورۃ الفلق اور سورۃ الناس یہ دونوں سورتیں سورہ تبت اور سورہ اخلاص کے لیے بطور شرح کے ہیں اور ان دونوں سورتوں میں اس تاریک زمانہ سے خدا کی پناہ مانگی گئی ہے جب کہ لوگ خدا کے مسیح کو دکھ دیں گے اور جب کہ عیسائیت کی ضلالت تمام دنیا میں پھیلے گی۔پس سورہ فاتحہ میں ان تینوں دعاؤں کی تعلیم بطور براءت الاستبلال ہے یعنی وہ اہم مقصد جو قرآن میں مفصل بیان کیا گیا ہے سورہ فاتحہ میں بطور اجمال اس کا افتتاح کیا ہے اور پھر سورۃ تثبت اور سورہ اخلاص اور دوسورہ فلق اور سورہ الناس میں ختم قرآن کے وقت میں انہی دونوں بلاؤں سے خدا تعالیٰ کی پناہ مانگی گئی ہے پس افتتاح کتاب اللہ بھی انہی دونوں دعاؤں سے ہوا۔اور پھر اختتام کتاب اللہ بھی انہی دونوں دعاؤں پر کیا گیا۔اور یاد رہے کہ ان دونوں فتنوں کا قرآن شریف میں مفصل بیان ہے اور سورہ فاتحہ اور آخری سورتوں میں اجمالاً ذکر ہے۔مثلاً سورہ فاتحہ میں دعا ولا الضالین میں صرف دو لفظ میں سمجھا یا گیا ہے کہ عیسائیت کے فتنہ سے بچنے کے لیے دعا مانگتے رہو جس سے سمجھا جاتا ہے کہ کوئی فتنہ عظیم الشان در پیش ہے جس کے لیے یہ اہتمام کیا گیا ہے کہ نماز کے پیچ وقت میں یہ دعا شامل کر دی گئی اور یہاں تک تاکید کی گئی کہ اس کے بغیر نماز ہو نہیں سکتی جیسا کہ حدیث لَا صَلوةَ إِلَّا بِالْفَاتِحَةِ سے ظاہر ہوتا ہے۔(تحفہ گولڑویہ۔ر۔خ۔جلد 17 صفحہ 219-217)