حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 330
330 فہم قرآن کے شرائط تزکیہ نفس۔اشراق اور روشن ضمیری کیونکہ جس قدر کمالات قرآنیہ کی طرف یہ حدیث اشارہ کرتی ہے وہ اہل کشف اور اور اہل باطن پر در حقیقت ظاہر ہو چکے ہیں اور ہوتے ہیں اور حارث کی روایت کی ہر ایک زمانہ میں تصدیق ہو رہی ہے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ قرآن کریم بلاشبہ جامع حقائق و معارف اور ہر زمانہ کی بدعات کا مقابلہ کرنے والا ہے۔اس عاجز کا سینہ اس کی چشم دید برکتوں اور حکمتوں سے پر ہے میری روح گواہی دیتی ہے کہ حارث اس حدیث کے بیان کرنے میں بیشک سچا ہے بلا شبہ ہماری بھلائی اور ترقی علمی اور ہمارے دائی فتوحات کیلئے قرآن ہمیں دیا گیا ہے اور اس کے رموز اور اسرار غیر متناہی ہیں جو بعد تزکیہ نفس اشراق اور روشن ضمیری کے ذریعہ سے کھلتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے جس قوم کے ساتھ کبھی ہمیں ٹکرا دیا اس قوم پر قرآن کے ذریعہ سے ہی ہم نے فتح پائی وہ جیسا ایک امی دیہاتی کی تسلی کرتا ہے ویسا ہی ایک فلسفی معقولی کو اطمینان بخشتا ہے۔یہ نہیں کہ وہ صرف ایک گروہ کیلئے اترا ہے دوسرا گر وہ اس سے محروم رہے بلا شبہ اس میں ہر ایک شخص اور ہر یک زمانہ اور ہر ایک استعداد کے لئے علاج موجود ہے۔جولوگ معکوس الخلقت اور ناقص الفطرت نہیں وہ قرآن کی ان عظمتوں پر ایمان لاتے ہیں۔اور انکے انوار سے مستفید ہوتے ہیں۔(مباحثہ لدھیانہ - ر-خ- جلد 4 صفحہ 110) وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَ مَايَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَلِمُوْنَ (العنكبوت: 44) جس طرح آفتاب کا قدر آنکھ ہی سے پیدا ہوتا ہے اور روز روشن کے فوائد اہل بصارت ہی پر ظاہر ہوتے ہیں اسی طرح خدا کی کلام کا کامل طور پر انہیں کو قدر ہوتا ہے کہ جو اہل عقل ہیں جیسا کہ خدائے تعالیٰ نے آپ فرمایا ہے وَ تِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَ مَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَلِمُوْنَ۔یعنی یہ مثالیں ہم لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں پر ان کو معقول طور پر وہی سمجھتے ہیں کہ جو صاحب علم اور دانشمند ہیں۔(براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 300، 301 حاشیہ نمبر 11)