حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 329
329 فہم قرآن کے مدارج فہم قرآن کے تین مدارج ہیں اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ۔(النور: 36) یہ تو عام فیضان ہے جس کا بیان آیت الله نُورُ السَّمواتِ وَ الْاَرْضِ میں ظاہر فرمایا گیا۔یہی فیضان ہے جس نے دائرہ کی طرح ہر یک چیز پر احاطہ کر رکھا ہے جس کے فائز ہونے کے لئے کوئی قابلیت شرط نہیں لیکن بمقابلہ اس کے ایک خاص فیضان بھی ہے جو مشروط بشرائط ہے اور انہیں افراد خاصہ پر فائز ہوتا ہے جن میں اس کے قبول کرنے کی قابلیت و استعداد موجود ہے یعنی نفوس کا ملہ انبیاء علیہم السلام پر جن میں سے افضل و اعلیٰ ذات جامع البرکات حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہے دوسروں پر ہر گز نہیں ہوتا۔( براہین احمدیہ - ر - خ - جلد 1 صفحہ 192 حاشیہ نمبر (11) اور دوسرا کمال جو بطور نشان کے امام الاولیاء اور سید الاصفیاء کے لئے ضروری ہے وہ فہم قرآن اور معارف کی اعلیٰ حقیقت تک وصول ہے۔یہ بات ضروری طور پر یا د ر کھنے کے لائق ہے کہ قرآن شریف کی ایک ادنیٰ تعلیم ہے اور ایک اوسط اور ایک اعلیٰ۔اور جو اعلیٰ تعلیم ہے۔وہ اس قدر نوار معارف اور حقائق کی روشن شعاعوں اور حقیقی حسن اور خوبی سے پُر ہے جواد نی یا اوسط استعداد کا اس تک ہرگز گزر نہیں ہو سکتا۔بلکہ وہ اعلیٰ درجہ کے اہل صفوت اور ارباب طہارت فطرت ان سچائیوں کو پاتے ہیں جن کی سرشت سراسر نور ہو کر نور کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔تریاق القلوب۔ر۔خ۔جلد 15 صفحہ 418) راز قرآن را کجا فهمد کسے بہر نورے نور می باید بسے تب تک کوئی قرآنی اسرار کو کیونکر سمجھ سکتا ہے نور کے سمجھنے کے لئے بہت سا نو ر باطن ہونا چاہئے۔ایں نہ من قرآں ہمیں فرموده است اندرو شرط تطهر بوده است یہ میری بات نہیں بلکہ قرآن نے بھی یہی فرمایا ہے کہ قرآن کو سمجھنے کے لئے پاک ہونے کی شرط ہے۔گر بقرآں ہر کسے را راه بود پس چرا شرط تطهر را فزود له اگر ہر شخص قرآن کو ( خود ہی سمجھ سکتا تو خدا نے تطہر کی شرط کیوں زاید لگائی۔نور را داند کسے کو نور شد و از حجاب سرکشی با دور شد وہی شخص سمجھتا ہے جو خودنور ہو گیا ہوا ور سرکشی کے حجابوں سے دور ہو گیا ہو۔ل لا يمسه الا المطهرون۔( درشین فارسی متر جم صفحه 227-226 ) ( سراج منیر۔رخ جلد 12 صفحہ 96)