حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 256
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔256 ثُمَّ أَتْبَعَ سَبَبًا۔حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلَى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُونِهَا سِتّرًا كَذَلِكَ وَقَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَيْهِ خُبُرًا۔یعنی پھر ذوالقرنین جو سیح موعود ہے جس کو ہر ایک سامان عطا کیا جائے گا ایک اور سامان کے پیچھے پڑے گا یعنی ممالک مشرقیہ کے لوگوں کی حالت پر نظر ڈالے گا اور وہ جگہ جس سے سچائی کا آفتاب نکلتا ہے اس کو ایسا پائے گا کہ ایک ایسی نادان قوم پر آفتاب نکلا ہے جس کے پاس دھوپ سے بچنے کے لئے کوئی بھی سامان نہیں یعنی وہ لوگ ظاہر پرستی اور افراط کی دھوپ سے جلتے ہوں گے اور حقیقت سے بے خبر ہوں گے اور ذوالقر نین یعنی مسیح موعود کے پاس حقیقی راحت کا سامان سب کچھ ہوگا جس کو ہم خوب جانتے ہیں مگر وہ لوگ قبول نہیں کریں گے اور وہ لوگ افراط کی دھوپ سے بچنے کے لئے کچھ بھی پناہ نہیں رکھتے ہوں گے نہ گھر نہ سایہ دار درخت نہ کپڑے جو گرمی سے بچا سکیں اس لئے آفتاب صداقت جو طلوع کرے گا ان کی ہلاکت کا موجب ہو جائے گا۔یہ ان لوگوں کے لئے ایک مثال ہے جو آفتاب ہدایت کی روشنی تو ان کے سامنے موجود ہے اور اس گروہ کی طرح نہیں ہیں جن کا آفتاب غروب ہو چکا ہے لیکن ان لوگوں کو اس آفتاب ہدایت سے بجز اس کا کوئی فائدہ نہیں کہ دھوپ سے چمڑا ان کا جل جائے اور رنگ سیاہ ہو جائے اور آنکھوں کی روشنی بھی جاتی رہے۔اس تقسیم سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسیح موعود کا اپنے فرض منصبی کے ادا کر نے لئے تین قسم کا دور ہوگا اول اس قوم پر نظر ڈالے گا جو آفتاب ہدایت کو کھو بیٹھے ہیں اور ایک تاریکی اور کیچڑ کے چشمہ میں بیٹھے ہیں۔دوسرا دورہ اس کا ان لوگوں پر ہو گا جو ننگ دھڑنگ آفتاب کے سامنے بیٹھے ہیں یعنی ادب سے حیا سے اور تواضع سے اور نیک ظن سے کام نہیں لیتے نرے ظاہر پرست ہیں گویا آفتاب کے ساتھ لڑنا چاہتے ہیں سو وہ بھی فیض آفتاب سے بے نصیب ہیں اور ان کو آفتاب سے بجز جلنے کے اور کوئی حصہ نہیں۔یہ ان مسلمانوں کی طرف اشارہ ہے جن میں مسیح موعود ظاہر تو ہوا مگر وہ انکار اور مقابلہ سے پیش آئے اور حیا اور ادب اور حسن ظن سے کام نہ لیا اس لئے سعادت سے محروم رہ گئے بعد اس کے اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ثُمَّ أَتْبَعَ سَبَبًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ بَيْنَ السَّدَّيْنِ وَجَدَ مِنْ دُونِهِمَا قَوْ مَّا لَّا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ قَوْلًا قَالُوا يَذَ الْقَرُ نَيْنِ إِنَّ يَاجُوجَ وَمَاجُوجَ مُفْسِدُونَ فِى الْأَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرُجًا عَلَى أَنْ تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ سَدًّا قَالَ مَامَكَنِيْ فِيهِ رَبِّي خَيْرٌ فَاعِيُنُونِي بِقُوَّةٍ اَجْعَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ رَدُمًا ه اتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ حَتَّى إِذَا سَاوِى بَيْنَ الصَّدَفَيْن قَالَ انْفُخُوا حَتَّى إِذَا جَعَلَهُ نَارً ا قَالَ اتُونِي أَفْرِغْ عَلَيْهِ قِطْرًاo فَمَا اسْطَاعُوْا اَنْ يَظْهَرُوهُ وَمَا اسْتَطَاعُرُ الَهُ نَقْبًا قَالَ هَذَا رَحْمَةٌ مِنْ رَّبِي فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّي جَعَلَهُ دَكَّاءَ وَكَانَ وَعْدُ رَبِّي حَقَّاهِ وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يُوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَجَمَعْنَهُمْ جَمْعًا وَ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لِلْكَفِرِينَ عَرُضَانِ الَّذِينَ كَانَتْ أَعْيُنُهُمْ فِي غِطَاءٍ عَنْ ذِكْرِى وَكَانُوا لَا يَسْتَطِيعُونَ سَمْعَانِ أَفَحَسِبَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا أَنْ يَتَّخِذُوْا عِبَادِي مِنْ دُوْنِيْ اَوْلِيَاءَ إِنَّا أَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَفِرِيْنَ نُزُلاً (اكهف : 93تا 103)