حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 255
255 لیے وہ آسانیاں کر دی گئیں کہ برسوں کی راہیں دنوں میں طے ہونے لگیں اور خبر رسانی کے وہ ذریعے پیدا ہوئے کہ ہزاروں کوس کی خبریں چند منٹوں میں آنے لگیں۔ہر ایک قوم کی وہ کتا میں شائع ہوئیں جو فی اور مستور تھی اور ہر ایک چیز کے ہم پہنچانے کے لئے ایک سبب پیدا کیا گیا۔کتابوں کے لکھنے میں جو جو دقتیں تھیں وہ چھا پہ خانوں سے دفع اور دور ہو گئیں یہاں تک کہ ایسی ایسی مشینیں نکلی ہیں کہ ان کے ذریعہ سے دس دن میں کسی مضمون کو اس کثرت سے چھاپ سکتے ہیں کہ پہلے زمانوں میں دس سال میں بھی وہ مضمون قید تحریر میں نہیں آسکتا تھا اور پھر ان کے شائع کرنے کے اس قدر حیرت انگیز سامان نکل آئے ہیں کہ ایک تحریر صرف چالیس دن میں تمام دنیا کی آبادی میں شائع ہوسکتی ہے اور اس زمانہ سے پہلے ایک شخص بشر طیکہ اس کی عمر بھی لبھی ہو سو برس تک بھی اس وسیع اشاعت پر قادر نہیں ہوسکتا تھا۔پھر بعد اس کے اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔فَأَتْبَعَ سَبَبًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَعْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنٍ حَمِيَّةٍ وَّ وَجَدَ عِنْدَ هَا قَوْمًا قُلْنَا يذَا الْقَرْنَيْنِ إِمَّا أَنْ تُعَذِّبَ وَ إِمَّا أَنْ تَتَّخِذَ فِيْهِمْ حُسُنًا۔قَالَ أَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهُ ثُمَّ يُرَدُّ إِلَى رَبِّهِ فَيُعَذِّبُهُ عَذَابًاتُكُرًا ، وَأَمَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُ جَزَاءَ نِ الْحُسْنَى وَسَنَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرٍ نَا يُسْرًا۔یعنی جب ذوالقرنین کو جو مسیح موعود ہے ہر ایک کی طرح سامان دیئے جائیں گے۔پس وہ ایک سامان کے پیچھے پڑے گا یعنی وہ مغربی ممالک کی اصلاح کے لئے کمر باندھے گا اور وہ دیکھے گا کہ آفتاب صداقت اور حقانیت ایک کیچڑ کے چشمہ میں غروب ہو گیا اور اس غلیظ چشمہ اور تاریکی کے پاس ایک قوم کو پائے گا جو مغربی قوم کہلائے گی یعنی مغربی ممالک میں عیسائیت کے مذہب والوں کو نہایت تاریکی میں مشاہدہ کرے گا نہ ان کے مقابل پر آفتاب ہو گا جس سے وہ روشنی پاسکیں اور نہ ان کے پاس پانی صاف ہو گا جس کو وہ پیویں یعنی ان کی علمی اور عملی حالت نہایت خراب ہوگی اور وہ روحانی روشنی اور روحانی پانی سے بے نصیب ہوں گے تب ہم ذوالقرنین یعنی مسیح موعود کو کہیں گے کہ تیرے اختیار میں ہے چاہے تو ان کو عذاب دے یعنی عذاب نازل ہونے کیلئے بددعا کرے ( جیسا کہ احادیث صحیحہ میں مروی ہے ) یا ان کے ساتھ حسن سلوک کا شیوا اختیار کرے تب ذوالقرنین یعنی مسیح موعود جواب دے گا کہ ہم اسی کو سزا دلانا چاہتے ہیں جو ظالم ہو۔وہ دنیا میں بھی ہماری بددعا سے سزایاب ہوگا اور پھر آخرت میں سخت عذاب دیکھے گا۔لیکن جو شخص سچائی سے منہ نہیں پھیرے گا اور نیک عمل کرے گا اس کو نیک بدلہ دیا جائے گا اور اس کو انہی کاموں کی بجا آوری کا حکم ہوگا جو سہل ہیں اور آسانی سے ہو سکتے ہیں۔غرض یہ مسیح موعود کے حق میں پیشگوئی ہے کہ وہ ایسے وقت میں آئے گا جب کہ مغربی ممالک کے لوگ نہایت تاریکی میں پڑے ہوں گے اور آفتاب صداقت ان کے سامنے سے بالکل ڈوب جائے گا اور ایک گندے اور بد بودار چشمہ میں ڈوبے گا یعنی بجائے سچائی کے بد بودار عقائد اور اعمال ان میں پھیلے ہوئے ہوں گے اور وہی ان کا پانی ہوگا جس کو وہ پیتے ہوں گے اور روشنی کا نام ونشان نہ ہوگا تاریکی میں پڑے ہوں گے۔اور ظاہر ہے کہ یہی حالت عیسائی مذہب کی آجکل ہے جیسا کہ قرآن شریف نے ظاہر فرمایا ہے اور عیسائیت کا بھاری مرکز ممالک مغربیہ ہیں۔