حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 257 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 257

257 پھر ذوالقرنین یعنی مسیح موعود ایک اور سامان کے پیچھے پڑے گا اور جب وہ ایک ایسے موقعہ پر پہنچے گا یعنی جب وہ ایک ایسا نازک زمانہ پائے گا جس کو بین السدین کہنا چاہئے یعنی دو پہاڑوں کے بیچ۔مطلب یہ کہ ایسا وقت پائے گا جبکہ دوطرفہ خوف میں لوگ پڑے ہونگے۔اور ضلالت کی طاقت حکومت کی طاقت کے ساتھ مل کر خوفناک نظارہ دکھا ئیگی تو ان دونوں طاقتوں کے ماتحت ایک قوم کو پائے گا جو اس کی بات کو مشکل سے سمجھیں گے۔یعنی غلط خیالات میں مبتلا ہو نگے اور بباعث غلط عقائد مشکل سے اس ہدایت کو سمجھیں گے جو وہ پیش کرے گا۔لیکن آخر کار سمجھ لیں گے اور ہدایت پالیں گے۔اور یہ تیسری قوم ہے جو مسیح موعود کی ہدایات سے فیضیاب ہو نگے تب وہ اس کو کہیں گے کہ اے ذوالقرنین ! یا جوج اور ماجوج نے زمین پر فساد مچارکھا ہے۔پس اگر آپ کی مرضی ہو تو ہم آپ کے لئے چندہ جمع کر دیں تا آپ ہم میں اور ان میں کوئی روک بنادیں۔وہ جواب میں کہے گا کہ جس بات پر خدا نے مجھے قدرت بخشی ہے وہ تمہارے چندوں سے بہتر ہے ہاں اگر تم نے کچھ مدد کرنی ہو تو اپنی طاقت کے موافق کرو تا میں تم میں اور ان میں ایک دیوار کھینچ دوں۔یعنی ایسے طور پر ان پر حجت پوری کروں کہ وہ کوئی طعن تشنیع اور اعتراض کا تم پر حملہ نہ کر سکیں لوہے کی سلیں مجھے لا دو تا آمدورفت کی راہوں کو بند کیا جائے یعنی اپنے تئیں میری تعلیم اور دلائل پر مضبوطی سے قائم کرو اور پوری استقامت اختیار کرو اور اس طرح پر خود لوہے کی سل بن کر مخالفانہ حملوں کو روکو اور پھر سلوں میں آگ پھونکو جب تک کہ وہ خود آگ بن جائیں۔یعنی محبت الہی اس قدر اپنے اندر بھڑکاؤ کہ خود الہی رنگ اختیار کرو۔یا درکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ سے کمال محبت کی یہی علامت ہے کہ محبت میں ظلمی طور پر الہی صفات پیدا ہو جائیں۔اور جب تک ایسا ظہور میں نہ آوے تب تک دعوئی محبت جھوٹ ہے۔محبت کا ملہ کی مثال بعینہ لوہے کی وہ حالت ہے جبکہ وہ آگ میں ڈالا جائے اور اس قدر آگ اس میں اثر کرے کہ وہ خود آگ بن جائے۔پس اگر چہ وہ اپنی اصلیت میں لوہا ہے۔آگ نہیں ہے۔مگر چونکہ آگ نہایت درجہ اس پر غلبہ کرگئی ہے اس لئے آگ کے صفات اس سے ظاہر ہوتے ہی۔وہ آگ کی طرح جلا سکتا ہے۔آگ کی طرح اس میں روشنی ہے۔پس محبت الہیہ کی حقیقت یہی ہے کہ انسان اس رنگ سے رنگین ہو جائے اور اگر اسلام اس حقیقت تک پہنچا نہ سکتا تو وہ کچھ چیز نہ تھا۔لیکن اسلام اس حقیقت تک پہنچاتا ہے۔اول انسان کو چاہئے کہ لوہے کی طرح اپنی استقامت اور ایمانی مضبوطی میں بن جائے۔کیونکہ اگر ایمانی حالت خس و خاشاک کی طرح ہے تو آگ اس کو چھوتے ہی بھسم کر دے گی۔پھر کیونکر وہ آگ کا مظہر بن سکتا ہے۔افسوس بعض نادانوں نے عبودیت کے اس تعلق کو جور بوبیت کے ساتھ ہے جس سے ظلی طور پر صفات الہیہ بندہ میں پیدا ہوتے ہیں نہ سمجھ کر میری اس وحی من اللہ پر اعتراض کیا ہے کہ انما امرک اذا اردت شيئا ان تقول له كن فيكون یعنی تیری یہ بات ہے کہ جب تو ایک بات کو کہے ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے۔یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے جو میرے پر نازل ہوا یہ میری طرف سے نہیں ہے اور اس کی تصدیق اکا بر صوفیاء اسلام کر چکے ہیں جیسا کہ سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ نے بھی فتوح الغیب میں یہی لکھا ہے اور عجیب تر یہ کہ سید عبد القادر جیلانی نے بھی یہی آیت پیش کی ہے۔افسوس لوگوں نے صرف رسمی ایمان پر کفایت کر لی ہے اور پوری معرفت کی طلب ان