حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 132
132 الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ الرَّحمن ترجمہ اور معنی ثُمَّ نُكَرِّرُ خُلاصَةَ الْكَلَامِ فِي تَفْسِيرُ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - فَاعْلَمْ أَنَّ اسْمَ اللَّهِ اسْمٌ جَامِدٌ لَّا يَعْلَمُ مَعْنَاهُ إِلَّا الْخَبِيْرُ الْعَلِيمُ وَقَذَ أَخَبَرَ عَنَّ اسْمُهُ بِحَقِيقَةِ هَذَا الْإِسْمِ فِي هَذِهِ الْآيَةِ - وَأَشَارَ إِلَى أَنَّهُ ذَاتٌ مُتَّصِفَةٌ بِالرَّحْمَانِيَّةِ وَالرَّحِيمِيَّةِ - أَى مُتَّصِفَةٌ بِرَحْمَةِ الْاِمْتِنَانِ وَرَحْمَةٍ مُّقَيَّدَةٍ بِالْحَالَةِ الْإِيْمَانِيَّةِ وَهَاتَانِ رَحْمَاتَانِ كَمَاءٍ أَصْفَى وَعِذَاءٍ أَحْلَى مِنْ مَّنْبَعِ الرُّبُوبِيَّةِ - وَكُل مَا هُوَ دُونَهُمَا مِنْ صِفَاتٍ فَهُوَ كَشُعَبِ لِهَذِهِ الصَّفَاتِ وَالاصْلُ رَحْمَانِيَّةً وَرَحِيْمِيَّةٌ وهُمَا مَظْهَرُ سِرِّ الذَّاتِ اب تم بِسْمِ اللهِ الرَّحِمَانِ الرَّحِیم کی تفسیر کا خلاصہ دوبارہ بیان کرتے ہیں۔پس واضح ہو کہ اللہ کالفظ اسم جامد ہے اور اسکے معنی سوائے خدائے خیر علیم کے اور کوئی نہیں جانتا۔اور اللہ تعالیٰ عزاسمہ نے اس آیت میں اس اسم کی حقیقت بتائی ہے اور اشارہ کیا ہے کہ اللہ اس ذات کا نام ہے جو رحمانیت اور رحیمیت کی صفات سے متصف ہے یعنی (بلا استحقاق ) احسان والی رحمت اور ایمانی حالت سے وابستہ رحمت ہر دورحمتوں سے (وہ ذات ) متصف ہے۔یہ دونوں رحمتیں صاف پانی اور شیریں غذا کی مانند ہیں جور بوبیت کے چشمہ سے نکلتی ہیں اور ان دونوں کے علاوہ باقی تمام صفات ان دو صفات کے لئے بمنزلہ شاخوں کے ہیں اور اصل رحمانیت اور رحیمیت ہی ہے اور یہ دونوں صفات ذات الہی کے بھید کی مظہر ہیں۔اعجاز مسیح - رخ جلد 18 صفحه 115-116 ) فرمایا (کہ) هُوَ الرَّحْمَنُ یعنی وہ جانداروں کی ہستی اور ان کے اعمال سے پہلے محض اپنے لطف سے نہ کسی غرض سے اور نہ کسی کے عمل کی پاداش میں ان کیلئے سامان راحت میسر کرتا ہے جیسا کہ آفتاب اور ماہتاب اور زمین اور دوسری تمام چیزوں کو ہمارے وجود اور ہمارے اعمال کے وجود سے پہلے ہمارے لئے بنا دیا اس عطیہ کا نام خدا کی کتاب میں رحمانیت ہے اور اس کام کے لحاظ سے خدا تعالیٰ رحمٰن کہلاتا ہے اور پھر فرمایا کہ الرَّحِيمُ یعنی وہ خدا نیک عملوں کی نیک تر جزا دیتا ہے اور کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا۔اور اس کام کے لحاظ سے رحیم کہلاتا ہے اور یہ صفت رحیمیت کے نام سے موسوم ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔۔۔خ جلد 10 صفحہ 373) رحمان پھر اللہ کی صفت الرحمن بیان کی ہے اور اس صفت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ انسان کی فطری خواہشوں کو اس کی دعا یا التجا کے بغیر اور بدوں کسی عمل عامل کے عطا ( پورا) کرتا ہے۔مثلاً جب انسان پیدا ہوتا ہے تو اس کے قیام و بقاء کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ پہلے سے موجود ہوتی ہیں پیدا پیچھے ہوتا ہے لیکن ماں کی چھاتیوں میں دودھ پہلے آجاتا ہے۔آسمان ، زمین ، سورج ، چاند ستارے، پانی، ہوا وغیرہ یہ تمام اشیاء جو اس نے انسان کیلئے بنائی ہیں یہ اس کی صفت رحمانیت ہی کے تقاضے ہیں۔لیکن دوسرے مذہب والے یہ نہیں مانتے کہ وہ بلا مبادلہ بھی فضل کرسکتا ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 36 )