حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 133
133 دوسری صداقت رحمان ہے کہ جو بعد رب العالمین بیان فرمایا گیا اور رحمان کے معنی جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں یہ ہیں کہ جس قدر جاندار ہیں خواہ ذی شعور اور خواہ غیر ذی شعور اور خواہ نیک اور خواہ بدان سب کے قیام اور بقاء وجود اور بقائے نوع کے لئے اور ان کی تکمیل کیلئے خدائے تعالیٰ نے اپنی رحمت عامہ کی رو سے ہر ایک قسم کے اسباب مطلوبہ میسر کر دیئے ہیں اور ہمیشہ میسر کرتا رہتا ہے اور یہ عطیہ محض ہے کہ جو کسی عامل کے عمل پر موقوف نہیں۔تعریف و معانی الرَّحِيمِ ( براہین احمدیہ۔رخ جلد 1 صفحہ 459 حاشیہ نمبر 11 ) اللہ تعالیٰ کی صفت رحیم بیان کی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی وہ صفت ہے جس کا تقاضا ہے کہ محنت اور کوشش کو ضائع نہیں کرتا بلکہ ان پر ثمرات اور نتائج مترتب کرتا ہے اگر انسان کو یہ یقین ہی نہ ہو کہ اس کی محنت اور کوشش کوئی پھل لاوے گی تو پھر وہ ست اور نکما ہو جاوے گا یہ صفت انسان کی امیدوں کو وسیع کرتی اور نیکیوں کے کرنے کی طرف جوش سے لے جاتی ہے اور یہ بھی یادرکھنا چاہیئے کہ رحیم قرآن شریف کی اصطلاح میں اللہ تعالٰی اس وقت کہلاتا ہے جبکہ لوگوں کی دعا ، تضرع اور اعمال صالح کو قبول فرما کر آفات اور بلاؤں اور تضیع اعمال سے ان کو محفوظ رکھتا ہے۔رحمانیت تو بالکل عام تھی لیکن رحیمیت خاص انسانوں سے تعلق رکھتی ہے اور دوسری مخلوق میں دعا، تضرع، اور اعمال صالحہ کا ملکہ اور قوت نہیں یہ انسان ہی کو ملا ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 37-36) رحمانیت اور رحیمیت میں یہی فرق ہے کہ رحمانیت دعا کو نہیں چاہتی مگر رحیمیت دعا کو چاہتی ہے اور یہ انسان کے لئے ایک خلعت خاصہ ہے اور اگر انسان انسان ہو کر اس صفت سے فائدہ نہ اٹھا وے تو گویا ایسا انسان حیوانات بلکہ جمادات کے برابر ہے۔الرَّحِیم۔اس کے یہ معنے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نیک عمل کے بدلہ نیک نتیجہ دیتا ہے جیسا کہ نماز پڑھنے والا، روزہ رکھنے والا ، صدقہ دینے والا دنیا میں بھی رحم پاوے گا اور آخرت میں بھی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ (التوبہ: 12:0) اور دوسری جگہ فرماتا ہے مَنْ يُعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهُ ( الزلزال : 98) یعنی اللہ تعالیٰ کسی کے اجر کو ضائع نہیں کرتا جو کوئی ذرہ سی بھی بھلائی کرتا ہے وہ اس کا بدلہ پالیتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا نام رحیم ہے جو صالح الاعمال عشق و محبت میں محو ہو جاتا ہے۔اس کے مدارج بلند کروں گا جتنے اولیاء اور بڑے بڑے راست باز ہوئے ہیں ان سب نے پہلے ضرور مجاہدات کئے ہیں۔جب جا کر ان پر یہ دروازہ کھلا۔قرآن مجید میں ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِ يَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت:70) جوینده یا بندہ۔جس نے مجاہدات کئے اُسی نے پایا۔پس یہ رحیم ان لوگوں کے رد میں ہے جو کہتے ہیں کہ جو ہونا ہے وہ ہو جائے گا۔ہمیں عبادات کی کیا ضرورت ہے۔غالباً چوروں ڈاکوؤں کا بھی یہی مذہب ہوتا ہے اور یہی خیالات وہ اندر ہی اندر رکھتے ہیں۔(البدر 9 جنوری 1908 صفحہ 5) ( تفسیر حضرت اقدس سورۃ فاتحہ جلد اول صفحہ 67) ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 349)