حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 131 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 131

131 رب العالمین میں حضرت اقدس“ کا ذکر ثُمَّ هُوَ سُبْحَانَهُ أَشَارَ فِي قَوْلِهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ إِلَى أَنَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَأَنَّهُ يُحْمَدُ فِي السَّمَاءِ وَالَّا رُضِينَ - وَأَنَّ الْحَامِدِينَ كَانُوا عَلَى حَمْدِهِ دَآئِمِيْنَ - وَعَلَى ذِكْرِهِمْ عَاكِفِينَ - وَإِن مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُهُ وَيَحْمَدُهُ فِى كُلِّ حِيْنِ وَأَنَّ الْعَبْدَ إِذَا نُسَلَخَ عَنْ إِرَادَاتِهِ - وَتَجَرَّدَ عَنْ جَذَبَاتِهِ وَفَنْ فِى اللَّهِ وَفِي طُرُقِهِ وَعِبَادَاتِهِ - وَعَرَفَ رَبَّهُ الَّذِي رَبَّاهُ بِعِنَايَاتِهِ - حَمِدَهُ فِي سَائِرِ أَوْقَاتِهِ وَأَحَبَّهُ بِجَمِيعِ قَلْبِهِ بَلْ بِجَمِيعِ ذَرَّاتِهِ - فَعِنْدَ ذَالِكَ هُوَ عَالَم مِّنَ الْعَالَمِينَ - وَلِذَالِكَ سُمِّيَ إِبْرَاهِيمُ أُمَّةً فِى كِتَابِ عَالَمِ الْعَالَمِينَ - وَمِنَ الْعَالَمِينَ زَمَانٌ أُرْسِلَ فِيهِمْ خَاتَمُ النَّبِيِّنَ - وَعَالَمْ أَخَرُ فِيهِ يَأْتِي اللهُ بِأَخَرِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ - فِى اخِرِ الزَّمَانِ رَحْمَةً عَلَى الطَّالِبِينَ وَإِلَيْهِ أَشَارَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى لَهُ الْحَمْدُ فِي الَّا وَلَى وَ الْآخِرَةِ - فَأَوْمَا فِيهِ إِلَى أَحْمَدَيْنِ وَجَعَلَهُمَا مِنْ نَّعْمَائِهِ الْكَا ثِرَةِ فَا لَأَوَّلُ مِنْهُمَا أَحْمَدُ الْمُصْطَفَى وَرَسُولُنَا الْمُجْتَنِى - وَالثَّانِي أَحْمَدُ اخِرِ الزَّمَانِ الَّذِي سُمِّيَ مَسِبُحًا وَمَهْدِيًّا مِنَ اللهِ الْمَنانِ - وَقَدِ اسْتَنْبَطتُ هَذِهِ النَّكْتَةَ مِنْ قَوْلِهِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ - فَلْيَتَدَبَّرُ مَنْ كَانَ مِنَ الْمُتَدَبِّرِينَ - پھر اللہ پاک ذات نے اپنے قول رب العالمین میں یہ اشارہ فرمایا ہے کہ وہ ہر چیز کا خالق ہے اور آسمانوں اور زمینوں میں اسی کی حمد ہوتی ہے۔اور پھر حمد کرنے والے ہمیشہ اس کی حمد میں لگے رہتے ہیں۔اور اپنی یا دخدا میں محور ہتے ہیں۔اور کوئی نئی چیز ایسی نہیں مگر ہر وقت اس کی تسبیح وتحمید کرتی رہتی ہے اور جب اس کا کوئی بندہ اپنی خواہشات کا چولہ اتار پھینکتا ہے اپنے جذبات سے الگ ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ اور اس کی راہوں اور اس کی عبادات میں فنا ہو جاتا ہے اپنے اس رب کو پہچان لیتا ہے جس نے اپنی عنایات سے اس کی پرورش کی وہ اپنے تمام اوقات میں اس کی حمد کرتا ہے اور اپنے پورے دل بلکہ اپنے (وجود کے ) تمام ذرات سے اس سے محبت کرتا ہے تو اس وقت وہ شخص عالمین میں سے ایک عالم بن جاتا ہے اسی لئے اعلم العالمین کی کتاب (قرآن کریم) میں حضرت ابراہیم" کا نام امت رکھا گیا اور عالمین سے ایک عالم وہ بھی ہے جس میں حضرت خاتم النبین ﷺ مبعوث کئے گئے ایک اور عالم وہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے طالبوں پر رحم کر کے آخری زمانہ میں مومنوں کے ایک دوسرے گروہ کو پیدا کرے گا اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام لَهُ الْحَمْدُ فِي الأولى وَالْآخِرَةِ (القصص: 71) میں اشارہ فرمایا ہے۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے دو احمدوں کا ذکر فرما کر ہر دو کو اپنی بے پایاں نعمتوں میں شمار کیا ہے۔ان میں سے پہلے احمد تو ہمارے نبی احمد مصطفیٰ اور رسول مجتبی عے ہیں اور دوسرا احمد احمد آخر الزمان ہے جس کا نام محسن خدا کی طرف سے مسیح اور مہدی بھی رکھا گیا ہے۔یہ نکتہ میں نے خدا تعالیٰ کے قول الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ سے اخذ کیا ہے۔پس ہر غور وفکر کرنے والے کو غور کرنا چاہیئے۔اعجاز ایح۔رخ جلد 18 صفحہ 137 تا139 )