حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 126
126 ترجمہ: پھر مین بھی یا دور ہے کہ لفظ حمد جو اس آیت میں اللہ ذوالجلال کی طرف سے استعمال ہوا ہے مصدر ہے جو بطور مبنی للمعلوم اور مینی مجھول ہے۔یعنی فاعل اور مفعول دونوں کے لئے ہے۔اور اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کامل طور پر تعریف کیا گیا اور تعریف کرنے والا ہے۔اور اس بیان پر دلالت کرنے والا قرینہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حمد کے بعد ایسی صفات کا ذکر فرمایا ہے جو اہل عرفان کے نزدیک ان معنی کو ستلزم ہیں۔اور اللہ تعالیٰ نے لفظ حمد میں ان صفات کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جو اس کے ازلی نور میں پائی جاتی ہیں۔پھر اس نے اس لفظ حد کی تفسیر فرمائی ہے اور اسے ایک ایسی پردہ نشین قرار دیا ہے جو رحمان اور رحیم کے ذکر پر اپنے چہرہ سے نقاب اٹھاتی ہے کیونکہ رحمان کا لفظ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ لفظ حمد مصدر معروف ہے اور اسی طرح رحیم کا لفظ حمد کے مصدر مجہول ہونے پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ اہل علم پر مخفی نہیں۔اعجاز اسیح - رخ جلد 18 صفحہ 130-131) اَلْحَمْدُ لِلہ میں آنحضرت ﷺ کی طرف اشارہ ہے (1) الْحَمْدُ لِلَّهِ سے قرآن شریف اسی لئے شروع کیا گیا ہے تا کہ رسول اللہ ﷺ کے نام کی طرف ایما ہو۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 396) (2) اب میں پھر بتانا چاہتا ہوں کہ حمد ہی سے محمد اور احمد نکلا ہے۔اور یہ رسول اللہ ﷺ کے دونام تھے۔گویا حمد کے دو مظہر ہوئے اور پھر الحمد للہ کے بعد اللہ تعالیٰ کی چار صفتیں رَبِّ الْعَلَمِين - الرَّحْمَنِ - الرَّحِيمِ - ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ بیان کی ہیں۔اللہ تعالی ظلی طور پر اپنی صفات دینا چاہتا ہے ( ملفوظات جلداول صفحہ 429۔430) الحمد اللہ کا مظہر میں نے ابھی بیان کیا ہے کہ الحمد للہ کا مظہر رسول اللہ اللہ کے دو ظہوروں محمد اور احمد میں ہوا۔اب نبی کامل کی ان صفات اربعہ کو بیان کر کے صحابہ کرام کی تعریف میں پورا بھی کر دیا۔گو یا اللہ تعالیٰ خلقی طور پر اپنی صفات دینا چاہتا ہے اس لئے فنافی اللہ کے یہی معنی ہیں کہ انسان الہی صفات کے اندر آجاوے۔(ملفوظات جلد اول صفحہ 430) صحابه رسول اکرم ﷺ میں بھی ان صفات کی تجلی چمکی نبی کریم کی قوت قدسی کا ثبوت یہ ہمارے نبی کریم ﷺ کی قوت قدسی کے کامل اور سب سے بڑھ کر ہونے کا ایک اور ثبوت ہے کہ آپ کے تربیت یافتہ گروہ میں وہ استقلال اور رسوخ تھا کہ وہ آپ کے لیے اپنی جان مال تک دینے سے دریغ نہ کرنے والے میدان میں ثابت ہوئے۔اور مسیح کے نقص کا یہ بدیہی ثبوت ہے کہ جو جماعت تیار کی ، وہی گرفتار کرانے اور جان سے مروانے اور لعنت کرنے والے ثابت ہوئے۔غرض رسول اللہ ﷺ کی رحیمیت کا اثر تھا کہ صحابہ میں ثبات قدم اور استقلال تھا۔پھر مالک یوم الدین کا عملی ظہور صحابہ کی زندگی میں یہ ہوا کہ خدا نے ان میں اور اُن کے غیروں میں فرقان رکھ دیا۔جو معرفت اور خدا کی محبت دنیا میں ان کو دی گئی ، یہ اُن کی دُنیا میں جزا تھی۔اب قصہ کوتاہ کرتا ہوں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم میں ان صفات اربعہ کی تجلی چمکی۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 430)