حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 125 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 125

125 الحَمدُ لِله رَبِّ الْعَلَمِينَ ترجمه بیان فرمودہ حضرت اقدس علیه السلام اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ الْحَمْدُ لله - تمام محامد اس ذات معبود برحق مجمع جمیع صفات کا ملہ کو ثابت ہیں جس کا نام اللہ ہے۔قرآن شریف کی اصطلاح میں اللہ اس ذات کامل کا نام ہے کہ جو معبود برحق مجمع جمیع صفات کا ملہ اور تمام رذائل سے منزہ اور واحد لا شریک اور مبدء جمیع فیوض ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ نے اپنے کلام پاک قرآن شریف میں اپنے نام اللہ کو تمام دوسرے اسماء وصفات کا موصوف ٹھہرایا ہے اور کسی جگہ کسی دوسرے اسم کو یہ رتبہ نہیں دیا۔پس اللہ کے اسم کو بوجہ موصوفیت تامہ ان تمام صفتوں پر دلالت ہے جن کا وہ موصوف ہے اور چونکہ وہ جمیع اسماء اور صفات کا موصوف ہے اس لیے اس کا مفہوم یہ ہوا کہ وہ جمیع صفات کا ملہ پر مشتمل ہے۔پس خلاصہ مطلب الحمد للہ کا یہ نکلا کہ تمام اقسام حمد کے کیا باعتبار ظاہر کے اور کیا باعتبار باطن کے اور کیا باعتبار ذاتی کمالات کے اور کیا باعتبار قدرتی عجائبات کے اللہ سے مخصوص ہیں اور اس میں کوئی دوسرا شریک نہیں اور نیز جس قدر محامد صحیحہ اور کمالات تامہ کو عقل کسی عاقل کی سوچ سکتی ہے یا فکر کسی متفکر کا ذہن میں لاسکتا ہے وہ سب خوبیاں اللہ تعالیٰ میں موجود ہیں اور کوئی ایسی خوبی نہیں کہ عقل اس خوبی کے امکان پر شہادت دے۔مگر اللہ تعالیٰ بد قسمت انسان کی طرح اس خوبی سے محروم ہو بلکہ کسی عاقل کی عقل ایسی خوبی پیش ہی نہیں کر سکتی کہ جو خدا میں نہ پائی جائے۔جہاں تک انسان زیادہ سے زیادہ خوبیاں سوچ سکتا ہے وہ سب اس میں موجود ہیں اور اس کو اپنی ذات اور صفات اور محامد میں من کل الوجوہ کمال حاصل ہے اور رذائل سے بنگالی منز ہ ہے۔تفسیر۔لفظ "حمد" ( براہین احمدیہ۔رخ جلد 1 صفحہ 435-436) ثُمَّ إِنَّ لَفَظَ الْحَمْدِ مَصْدَ رَبَّبُنِيٌّ عَلَى الْمَعْلُومِ وَالْمَجْهُول - وَلِلْفَاعِل وَالْمَفْعُول مِنَ اللهِ ذِي الْجَلَالِ وَمَعْنَاهُ أَنَّ اللهَ هُوَ مُحَمَّدٌ وَهُوَ أَحْمَدُ عَلى وَجْهِ الكَمَالِ وَالْقَرِينَةُ الدَّالَّهُ عَلى هَذَا الْبَيَانِ أَنَّهُ تَعَالَى ذَكَرَ بَعْدَ الْحَمْدِ صِفَاتًا تَسْتَلْزِمُ هذَا الْمَعْنَى عِندَأَهْلِ الْعِرْفَانِ وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ أَوْ مَأْفِى لَفْظِ الْحَمْدِ إِلَى صِفَاتٍ تُوْجَدُ فِي نُورِهِ الْقَدِيمِ ثُمَّ فَسَّرَا الحَمدَ وَجَعَلَهُ مُخَدَّرَةٌ سَفَرَتْ عَنْ وَجْهِهَا عِنْدَ ذِكْرِ الرَّحْمَانِ وَالرَّحِيمِ فَإِنَّ الرَّحْمَانَ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْحَمْدَ مَيْنِيٌّ عَلَى الْمَعْلُومِ وَالرَّحِيمَ يَدُلُّ عَلَى الْمَجْهُولِ كَمَا لَا يَخْفَى عَلَى أَهْلِ الْعُلُومِ -