حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 127
127 حضرت مسیح موعود کی جماعت بھی صحابہ ہی ہوگی لیکن بات بڑی غور طلب ہے کہ صحابہ کی جماعت اتنی ہی نہ سمجھو جو پہلے گزر چکے بلکہ ایک اور گروہ بھی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں ذکر کیا ہے۔وہ بھی صحابہ ہی میں داخل ہے جو احمد کے بروز کے ساتھ ہوں گے؛ چنانچہ فرمایا، وَاخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (الجمعتہ :4 ) یعنی صحابہ کی جماعت کو اسی قدر نہ سمجھو بلکہ مسیح موعود کے زمانہ کی جماعت بھی صحابہ ہی ہوگی۔اس آیت کے متعلق مفسروں نے مان لیا ہے کہ یہ مسیح موعود کی جماعت ہے منہم کے لفظ سے پایا جاتا ہے کہ باطنی توجہ اور استفاضہ صحابہ ہی کی طرح ہوگا۔صحابہ کی تربیت ظاہری طور پر ہوئی تھی مگر ان کو کوئی دیکھ نہیں سکتا وہ بھی رسول اللہ ﷺ کی تربیت کے نیچے ہوں گے۔اس لئے سب علماء نے اس گروہ کا نام صحابہ ہی رکھا ہے۔جیسے ان صفات اربعہ کا ظہوران صحابہ میں ہوا تھا ویسے ہی ضروری ہے کہ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ کی مصداق جماعت صحابہ میں بھی ہو۔مسیح وقت آب دُنیا میں آیا خُدا نے مبارک وہ جو اب ایمان لایا صحابة (ملفوظات جلد اول صفحہ 431) عہد کا دن ہے دکھایا ملا جب مجھ کو مجھ کو پایا وہی کے ان کو ساقی نے پلا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي ( در شین اردو صفحه 59) الله الحمد میں دو احمد وں کا ذکر ہے یعنی آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعود اعْلَمُ أَنَّ اللهَ تَعَالَى افْتَتَحَ كِتَابَهُ بِالْحَمْدِ لَا بِالشُّكْرِ وَلَا بِالثَّنَاءِ - لَا نَّ الْحَمْدَ أَتَم وَاَكْمَلُ مِنْهُمَا وَأَحَاطَهُمَا بِالْاِسْتِيْفَاءِ - ثُمَّ ذَالِكَ رَدُّ عَلَى عَبَدَةِ الْمَخْلُوقِيْنَ وَالْأَوْثَان - فَإِنَّهُمْ يَحْمَدُونَ طَوَا غِيْتَهُمْ وَيَنْسِبُونَ إِلَيْهَا صِفَاتِ الرَّحْمَنِ وَفِي الْحَمْدِ إِشَارَةٌ أُخْرَى - وَهِيَ أَنَّ الله تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ أَيُّهَا الْعِبَادُ اعْرِفُونِي بِصِفَاتِي وَامِنُوا بِي لِكَمَالَاتِي وَانْظُرُوا إِلى السَّمَوتِ وَالَّا رُضِينَ هَلْ تَجِدُ وُنَ كَمِثْلِى رَبَّ الْعَالَمِيْنَ وَاَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ وَمَا لِكَ يَوْمِ الدِّينِ - وَمَعَ ذَالِكَ إِشَارَةٌ إِلَى أَنَّ الهَكُمْ إِلَةٌ جَمَعَ جَمِيعَ أنْوَاعِ الْحَمْدِ فِي ذَاتِهِ وَتَفَرَّدَ فِي سَائِرِ مَحَاسِنِهِ وَ صِفَاتِهِ - وَإِشَارَةٌ إِلَى أَنَّهُ تَعَالَى مُنَزَّةٌ شَانُهُ عَنْ كُلّ نَقْصٍ وَّ حُرُوْلٍ حَالَةٍ وَلُحُوقِ وَصُمَةٍ كَا لَمَخْلُوقِيْنَ بَلْ هُوَ الْكَاسِلُ المَحْمُودُ وَلَا تُحِيطُهُ الحُدودُ وَلَهُ الحَمدُ فِي الأ وَلَى وَالْآخِرَةِ وَ مِنَ الَّا زَلِ إِلَى ابد الابدين - وَلِذَالِكَ سَمَّى اللهُ نَبِيَّة أَحْمَدَ وَكَذَالِكَ سَمَّى بِهِ الْمَسِيحَ الْمَوْعُودَ لِيُشِيرَ