حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 70
70 پندرہویں فصل دعوی مجددیت کے اعتبار سے الہامات حضرت اقدس اور پھر جب تیرھویں صدی کا اخیر ہوا اور چودھویں صدی کا ظہور ہونے لگا تو خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ سے مجھے خبر دی کہ تو اس صدی کا مجدد ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا کہ: الرحمن علم القرآن لتنذر قوماً ما أنذر آباء هم ولتستبين سبيل المجرمين۔قل انى أمرتُ وانا اوّل المؤمنين۔یعنی خدا نے تجھے قرآن سکھلایا اور اسکے صحیح معنے تیرے پر کھول دئے۔یہ اس لئے ہوا کہ تا تو ان لوگوں کو بد انجام سے ڈراوے۔کہ جو باعث پشت در پشت کی غفلت اور نہ متنبہ کئے جانے کے غلطیوں میں پڑ گئے اور تا ان مجرموں کی راہ کھل جائے کہ جو ہدایت پہنچنے کے بعد بھی راہ راست کو قبول کرنا نہیں چاہتے ان کو کہہ دے کے میں مامور من اللہ اور اول المومنین ہوں۔اور یہ الہام براہین احمدیہ میں چھپ چکا ہے جو اُنہی دنوں میں جس کو آج اٹھارہ سال کا عرصہ ہوا ہے۔میں نے تالیف کر کے شائع کی تھی۔اس کتاب کے الہامات پر نظر غور ڈالنے سے ہر ایک کو معلوم ہو جائے گا کہ خدا نے کیوں اور کس غرض سے مجھے اس خدمت پر مامور کیا اور کیا حالت موجودہ زمانہ کی اور صدی کا سر اس بات کو چاہتا تھا یا نہیں کہ کوئی شخص! س ایسے غربت اسلام کے زمانہ اور کثرت بدعات اور سخت بارش بیرونی حملوں کے دنوں میں خدا تعالیٰ کی طرف سے تائید اور تجدید دین کے لئے آوے۔(کتاب البرية - رخ جلد 13 صفحه 202-201) هُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ الْخَيْتَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ اللہ وہ ذات کریم ہے کہ جو نا اُمیدی کے پیچھے مینہ برساتا ہے۔اور اپنی رحمت کو دنیا میں پھیلاتا ہے یعنی عین ضرورت کے وقت تجدید دین کی طرف متوجہ ہوتا ہے جس کو چاہتا ہے بندوں میں سے چن لیتا ہے۔( تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحه 101 )