حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 71
71 ضرورت تجدید دین وَوَاللهِ إِنِّي جِئْتُ مِنْهُ مُجَدِّدًا بِوَقْتِ أَضَلَّ النَّاسَ غُوْلٌ مُّسَجِّرُ اور خدا کی قسم ! یقیناً میں اس کی طرف سے مجدد ہو کر آیا ہوں ایسے وقت میں کہ قابو کر لینے والے دیو نے لوگوں کو گمراہ کر دیا تھا وَعَلَّمَنِي رَبِّى عُلُوْمَ كِتَابِهِ وَأَعْطِيتُ مِمَّا كَانَ يُخْفَى وَيُسْتَرُ مجھے میرے رب نے اپنی کتاب کے علوم سکھائے اور مجھے وہ علم دیا گیا جو مخفی اور مستور تھا وَأَسْرَارُ قُرآنِ مَجِيدِ تَبَيَّنَتْ عَلَيَّ وَيَسَّرَلِى عَلِيمٌ مُّيَسِرُ اور قرآن مجید کے بھید مجھ پر ظاہر ہو گئے۔آسانی پیدا کرنے والے خدائے علیم نے میرے لئے آسانی پیدا کردی أَلَا إِنَّمَا الْأَيَّامُ رَجَعَتْ إِلَى الْهُدَى هَنِيأَنَّكُمْ بَعْنِي فَبَشُوا وَابْشِرُوا سُن لو! زمانہ ہدایت کی طرف لوٹ آیا۔مبارک ہو تمہارے لئے میری بعثت۔تم خوش ہو جاؤ اور خوشی مناؤ (حمامة البشرى - رخ جلد 7 صفحہ 334 ) والصلواة والسّلام على خاتم الرسل الذي اقتضى ختم نبوته ان تبعث مثل الانبياء من امته وان تنوّر وتثمر الى انقطاع هذا العالم اشجاره ولا تعفّى أثاره ولا تغيب تـذكـارهـ فلاجل ذلك جرت عادة الله انه يرسل عبادا من الذين استطابهم لتجديد هذا الدين ويعطيهم من عنده علم اسرار القرآن ويُبلغهم الى حق اليقين ليظهروا معارف الحق على الخلق بسلطانها وقوتها ولمعانها اور صلوۃ اور سلام خاتم رسل پر جس کی نبوت کے ختم نے چاہا کہ آپ کی اُمت سے نبیوں کی مانند لوگ پیدا ہوں۔اور آپ کے درخت زمانہ کے آخر تک پھلتے پھولتے رہیں۔اور نہ آپ کے نشان مٹائے جائیں۔اور نہ آپ کی یاد دُنیا سے بھول جائے۔اسی لئے خدا کی عادت ہے کہ وہ ایسے بندوں کو بھیجا کرتا ہے جنہیں اس دین کی تجدید کے لئے پسند فرما لیتا ہے اور انہیں اپنے حضور سے قرآن کے اسرار عطا کرتا۔اور حق الیقین تک پہنچاتا ہے۔اسلئے کہ وہ لوگوں پر حق کے معارف کو پوری قوت اور غلبہ اور چمک کے رنگ میں ظاہر کریں۔الھدی۔رخ جلد 18 صفحہ 248-247 ) نور دل جاتا رہا اک رسم دیں کی رہ گئی پھر بھی کہتے ہیں کہ کوئی مصلح دیں کیا بکار راگ وہ گاتے ہیں جسکو آسماں گا تا نہیں وہ ارادے ہیں کہ جو ہیں برخلاف شہریار (براہین احمدیہ حصہ پنجم۔رخ جلد 21 صفحہ 132)