حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 69 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 69

69 حضرت اقدس قرآن کریم پر اعتراضات کو دور کرنے کیلئے مبعوث ہوئے ہیں یہ تو صرف اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور اس کی بے حد عنایت ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ میرے جیسے عاجز انسان کے ہاتھ سے اس کے دین کی عزت ظاہر ہو۔میں نے ایک وقت ان اعتراضات اور حملات کو شمار کیا تھا جو اسلام پر ہمارے مخالفین نے کئے ہیں تو ان کی تعداد میرے خیال اور اندازہ میں تین ہزار ہوئی تھی اور میں سمجھتا ہوں کہ اب تو اور بھی تعداد بڑھ گئی ہو گی۔کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ اسلام کی بناء ایسی کمزور باتوں پر ہے کہ اس پر تین ہزار اعتراض وارد ہو سکتا ہے۔نہیں ایسا ہر گز نہیں۔یہ اعتراضات تو کوتاہ اندیشوں اور نادانوں کی نظر میں اعتراض ہیں مگر میں تم سے سچ سچ کہتا ہوں کہ میں نے جہاں ان اعتراضات کو شمار کیا وہاں یہ بھی غور کیا ہے کہ ان اعتراضات کی تہ میں دراصل بہت ہی نادر صداقتیں موجود ہیں جو عدم بصیرت کی وجہ سے معترضین کو دکھائی نہیں دیں اور در حقیقت میں یہ خدا تعالیٰ کی حکمت ہے کہ جہاں نابینا معترض آکر اٹکا ہے۔وہیں حقائق و معارف کا مخفی خزانہ رکھا ہے اور خدا تعالیٰ نے مجھے مبعوث فرمایا ہے کہ میں ان خزائن مدفونہ کو دنیا پر ظاہر کروں اور ناپاک اعتراضات کا کیچڑ جوان درخشاں جواہرات پر تھو پا گیا ہے۔اس سے ان کو پاک صاف کروں۔خدا تعالیٰ کی غیرت اس وقت بڑی جوش میں ہے کہ قرآن شریف کی عزت کو ہر ایک خبیث دشمن کے داغ اعتراض سے منزہ و مقدس کرے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 38) مجھے بھیجا گیا ہے تاکہ میں آنحضرت ﷺ کی کھوئی ہوئی عظمت کو پھر قائم کروں اور قرآن شریف کی سچائیوں کو دنیا کو دکھاؤں اور یہ سب کام ہو رہا ہے لیکن جن کی آنکھوں پر پٹی ہے وہ اس کو دیکھ نہیں سکتے حالانکہ اب یہ سلسلہ سورج کی طرح روشن ہو گیا ہے اور اس کی آیات و نشانات کے اس قدر لوگ گواہ ہیں کہ اگر ان کو ایک جگہ جمع کیا جائے تو ان کی تعداد اس قدر ہو کہ روئے زمین پر کسی بادشاہ کی بھی اتنی فوج نہیں ہے۔اس قدرصورتیں اس سلسلہ کی سچائی کی موجود ہیں کہ ان سب کو بیان کرنا بھی آسان نہیں۔چونکہ اسلام کی سخت تو ہین کی گئی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے اسی توہین کے لحاظ سے اس سلسلہ کی عظمت کو دکھایا ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 9) هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدَي وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرَهَ الْمُشْرِكُونَ - (الصف:10) جس قدر حق کے مقابل پر اب معقول پسندوں کے دلوں میں اوہام باطلہ پیدا ہوتے ہیں اور عقلی اعتراضات کا ایک طوفان برپا ہوا ہے اس کی نظیر کسی زمانہ میں پہلے زمانوں میں سے نہیں پائی جاتی۔لہذا ابتداء سے اس امر کو بھی کہ ان اعتراضات کا براہین شافیه و کافیہ سے بحوالہ آیات قرآن مجید بکلی استیصال کر کے تمام ادیان باطلہ پر فوقیت اسلام ظاہر کر دی جائے اسی زمانہ پر چھوڑا گیا تھا کیونکہ پیش از ظهور مفاسد ان مفاسد کی اصلاح کا تذکرہ محض بے محل تھا۔اسی وجہ سے حکیم مطلق نے ان حقائق اور معارف کو اپنی کلام پاک میں مخفی رکھا اور کسی پر ظاہر نہ کیا جب تک کہ ان کے اظہار کا وقت آگیا۔ہاں اس وقت کی اس نے پہلے سے اپنی کتاب عزیز میں خبر دے رکھی تھی جو آیت هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَی میں صاف اور کھلے طور پر مرقوم ہے سواب وہی وقت ہے اور ہر ایک شخص روحانی روشنی کا محتاج ہورہا ہے۔سوخدائے تعالیٰ نے اس روشنی کو دے کر ایک شخص کو دنیا میں بھیجا۔وہ کون ہے؟ یہی ہے جو بول رہا ہے۔(ازالہ اوہام - رخ جلد 3 صفحہ 515)