حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 66 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 66

66 چودہویں فصل اغراض بعثت حضرت اقدس کے اعتبار سے مسیح موعود کی آمد کا مقصد حضرت مسیح علیہ السلام جیسے اپنی کوئی شریعت لے کر نہ آئے تھے بلکہ توریت کو پورا کرنے آئے تھے اسی طرح پر محمدی سلسلہ کا صیح اپنی کوئی شریعت لے کر نہیں آیا بلکہ قرآن شریف کے احیاء کے لئے آیا ہے اور اس تکمیل کے لئے آیا ہے جو تکمیل اشاعت ہدایت کہلاتی ہے۔تحمیل اشاعت ہدایت کے متعلق یا درکھنا چاہئے کہ آنحضرت ﷺ پر جو تمام نعمت اور اکمال الدین ہوا تو اس کی دو صورتیں ہیں۔اول تکمیل ہدایت۔دوسری تکمیل اشاعت ہدایت۔تکمیل ہدایت من كل الوجوه آپ کی آمد اول سے ہوئی اور تکمیل اشاعت ہدایت آپ کی آمد ثانی سے ہوئی کیونکہ سورۃ جمعہ میں جو اخَرِيْنَ مِنْهُمْ (الجمہ: 4) والی آیت آپ کے فیض اور تعلیم سے ایک اور قوم کے تیار کرنے کی ہدایت کرتی ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی ایک بعثت اور ہے اور یہ بعثت بروزی رنگ میں ہے جو اس وقت ہو رہی ہے پس یہ وقت تکمیل اشاعت ہدایت کا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اشاعت کے تمام ذریعے اور سلسلے مکمل ہو رہے ہیں چھاپہ خانوں کی کثرت اور آئے دن ان میں نئی باتوں کا پیدا ہونا ، ڈاکخانوں ، تار برقیوں ،ریلوں ، جہازوں ، کا اجرا اور اخبارات کی اشاعت ، ان سب امور نے مل ملا کر دنیا کو ایک شہر کے حکم میں کر دیا ہے پس یہ ترقیاں بھی دراصل آنحضرت ﷺ کی ہی ترقیاں ہیں کیونکہ آپ کی کامل ہدایت کے کمال کا دوسرا جز و تکمیل اشاعت ہدایت پورا ہورہا ہے۔اور یہ اسی کے موافق ہے جیسے مسیح نے کہا تھا کہ میں توریت کو پورا کرنے آیا ہوں۔اور میں کہتا ہوں کہ میرا ایک کام یہ بھی ہے تکمیل اشاعت ہدایت کروں۔غرض یہ عیسوی مماثلت بھی ہے۔(ملفوظات جلد دوم صفحہ 361-362) الہام حضرت اقدس مسلمان را چو دور خسروی آغاز کردند مسلمان باز کردند جب (ہمارا) شاہی زمانہ شروع ہوا تو مسلمانوں کو دوبارہ مسلمان کیا گیا مقام او مبین از راه تحقیر بدورانش رسولاں ناز کردند اس کے درجہ کو تحقیر کی نظر سے نہ دیکھ کہ رسولوں نے اس کے زمانے پر ناز کیا ہے (مصرع نمبرا تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحه 601 665 ) ( مصرع نمبر ۲ // (604 // //