حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 67 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 67

67 حضرت اقدس قرآن کریم کے پوشیدہ خزانوں کو ظاہر کرنے کیلئے مبعوث ہوئے ہیں الهام حضرت اقدس كُنتُ كَنرًا مَّحْفِيًا فَا حُبَيْتُ أَنْ أَعْرَفَ - إِنَّ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَهُمَا - وَإِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا - آهذَا الَّذِي بَعَتَ اللهُ - قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَيَّ إِنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَةٌ وَّاحِدٌ - وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي الْقُرْآنِ لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ - وَلَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ پیر سراج الحق صاحب نعمانی فرماتے ہیں۔” میں نے ایک روز حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت كنت كنزا۔۔۔۔۔کے معانی میں صوفیاء نے اور نیز دیگر علماء نے بہت کچھ زور لگائے۔آپ فرما ئیں کہ اس جملہ مبارک کے کیا معنی ہیں۔فرمایا۔آسان معنی اس کے یہی ہیں کہ جب دنیا میں ضلالت اور گمراہی اور کفر و شرک اور بدعات و رسومات مخترعات پھیل جاتی ہیں۔اور خدا تعالیٰ کی معرفت اور اُس تک پہنچنے کی راہیں گم ہو جاتی ہیں۔اور دل سخت اور خشیت اللہ سے خالی ہو جاتے ہیں۔تو ایسے وقت اور ایسے زمانہ میں خدا تعالی مخفی خزانہ کی طرح ہو جاتا ہے۔تو اس کے بعد خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ میں پھر دنیا پر ظاہر ہوؤں۔اور دنیا مجھے پہچانے۔(بقیہ حاشیہ ) خدا تعالیٰ کسی اپنے بندہ کو اپنے بندوں میں سے چن لیتا ہے اور اُس کو خلعت خلافت عطا فرماتا ہے اُس کے ذریعہ سے وہ شناخت کیا جاتا ہے۔وہ پسندیدہ اور برگزیدہ بندہ خدا تعالیٰ کی محبت از سر نو خالی دلوں میں بھرتا اور اُس کی معرفت کے اسرار لوگوں پر ظاہر کرتا ہے۔ہر ایک زمانہ میں ابتدائے آفرینش سے یہی سنت اللہ اور یہی طریقہ اللہ رہا ہے۔بالآخر ہمارے زمانہ میں بھی ایسا ہی ہوا۔کہ لوگ معرفت الہی کوکھو بیٹھے۔صفات الہی میں کچھ کا کچھ اپنی طرف سے تصرف کیا۔اسماء اللہ سے غافل ہو گئے۔اس کی کتابوں اور صحیفوں کو ترک کر بیٹھے۔اس کے بد اور شریک بنالئے۔پس خدا تعالیٰ پوشیدہ خزانہ کی طرح ہو گیا۔تو خدا تعالیٰ نے ہمیں اپنی معرفت اور محبت دے کر بھیجا۔تا کہ دنیا کوراہ راست پر لگایا جاوے۔پس اسی واسطے ہم تحریر سے تقریر سے توجہ سے ، دعا سے، اپنے چال چلن سے پر ہیبت پیشگوئیوں اور اسرار غیب سے جو خدا نے ہمیں عطا کئے۔اور معارف و حقائق و دقائق قرآنی سے رات دن لگے ہوئے ہیں۔اور ہم کیا خدا تعالیٰ نے ہمارے سب کا روبار اور اعضا اور ہاتھ اور زبان اور ہر ایک حرکت و سکون کو اپنے قبضہ میں کر رکھا ہے جس طرح اس کی مرضی ہوتی ہے۔وہ ہمیں چلاتا ہے اور ہم اُسی طرح چلتے ہیں۔ہمارا اس میں کچھ اختیار نہیں۔“ ( تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ 90-89 ) باغ مرجھایا ہوا تھا گر گئے تھے سب ثمر میں خدا کا فضل لایا پھر ہوئے پیدا ثمار مرہم عیسی نے دی تھی محض عیسی کو شفا میری مرہم سے شفا پائے گا ہر ملک و دیار جھانکتے تھے نور کو وہ روزن دیوار سے لیک جب در کھل گئے پھر ہو گئے شپر شعار وہ خزائن جو ہزاروں سال سے مدفون تھے اب میں دیتا ہوں اگر کوئی ملے امیدوار ( در نشین اردو ) ( براہین احمدیہ حصہ پنجم۔رخ جلد 21 صفحہ 147)