حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 65 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 65

65 65 راز قرآں را کجا فہمد کے بہر نورے نوری باید ہے تب تک کوئی قرآنی اسرار کو کیونکر سمجھ سکتا ہے نور کے سمجھنے کے لیے بہت سا نور باطن ہونا چاہیے ایں نہ من قرآن ہمیں فرموده است اندرو شرط تظهر بوده است ہے یہ میری بات نہیں بلکہ قرآن نے بھی یہی فرمایا ہے قرآن کو سمجھنے کے لیے پاک ہونے کی شرط۔گر بقرآن ہر کسے را راه بود پس چرا شرط تظهر را فزود (لايمته الام شهرون) اگر ہر شخص قرآن کو (خودہی سمجھ سکتا۔تو خدا نے تطہر کی شرط کیوں زاید لگائی نور داند را کے کو نور شد واز حجاب سرکشی ها دور نور کو وہی شخص سمجھتا ہے جو خود نور ہو گیا ہو اور سرکشی کے حجابوں سے حقیقی معلم قرآن کی صفات دور ہو گیا شد ہو (سراج منیر۔رخ جلد 12 صفحہ 96) اور یہ کہنا کہ ہمارے لئے قرآن اور احادیث کافی ہیں اور صحبت صادقین کی ضرورت نہیں یہ خود مخالفت تعلیم قرآن ہے کیونکہ اللہ جلشانہ فرماتا ہے وَكُونُوامَعَ الصَّادِقِينَ (التوبہ: 119) اور صادق وہ ہیں جنہوں نے صدق کو علی وجہ البصیرت شناخت کیا اور پھر اس پر دل و جان سے قائم ہو گئے اور یہ اعلی درجہ بصیرت کا بجز اس کے ممکن نہیں کہ ساوی تائید شامل حال ہو کر اعلی مرتبہ حق الیقین تک پہنچادیوے۔پس ان معنوں کو کر کے صادق حقیقی انبیاء اور رسل اور محدث اولیاء کاملین ململین ہیں جن پر آسمانی روشنی پڑی اور جنہوں نے خدا کو اسی جہان میں یقین کی اور آنکھوں سے دیکھ لیا اور آیت موصوفہ بالا بطور اشارت ظاہر کر رہی ہے کہ دنیا صادقوں کے وجود سے بھی خالی نہیں ہوتی کیونکہ دوام حكم كُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ دوام وجود صادقین کو تلزم ہے۔(شہادت القرآن - رخ جلد 6 صفحه 347) اے اسیر عقل خود بر جستئی خود کم بناز کیں سپہر بو العجائب چوں تو بسیار آورد اے اپنی عقل کے قیدی اپنی ہستی پر ناز نہ کر کہ یہ عجیب آسمان تیری طرح کے بہت سے آدمی لا یا کرتا ہے غیر را هرگز نمی باشد گذر در کوئے حق ہر کہ آید ز آسمان او راز آن یار آورد خدا کے کوچہ میں غیر کو ہرگز دخل نہیں جو آسمان سے آتا ہے وہی اس یار کے اسرار ہمراہ لاتا ہے خود بخود فهمیدن قرآن گمان باطل است هر که از خود آورد او نجس و مُردار آورد آپ ہی آپ قرآن کو سمجھ لینا ایک غلط خیال ہے جو شخص اپنے پاس سے اس کا مطلب پیش کرتا ہے وہ گندگی اور مردار ہی پیش کرتا ہے۔بركات الدعا۔رخ جلد 6 صفحہ 5)