حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 897
897 ایسی قوت ایمانی اور قوت اخلاقی اور ثابت قدمی دکھلاوے کہ جو خارق عادت ہونے کی وجہ سے بطور نشان کے ہو جائے اور مرد صالح کا کمال یہ ہے کہ ایسا ہر ایک قسم کے فساد سے دور ہو جائے۔اور مجسم صلاح بن جائے کہ وہ کامل صلاحیت اس کی خارق عادت ہونے کی وجہ سے بطور نشان مانی جائے۔سو یہ چاروں قسم کے کمال جو ہم پانچ وقت خدا تعالیٰ سے نماز میں مانگتے ہیں یہ دوسرے لفظوں میں ہم خدا تعالیٰ سے آسمانی نشان طلب کرتے ہیں اور جس میں یہ طلب نہیں اس میں ایمان بھی نہیں۔ہماری نماز کی حقیقت یہی طلب ہے جو ہم چار نگوں میں پنج وقت خدا تعالیٰ سے چار نشان مانگتے ہیں اور اس طرح پر زمین پر خدا تعالیٰ کی تقدیس چاہتے ہیں تا ہماری زندگی انکار اور شک اور غفلت کی زندگی ہوکر زمین کو پلید نہ کرے اور ہر ایک شخص خدا تعالیٰ کی تقدیس تبھی کر سکتا ہے کہ جب وہ یہ چاروں قسم کے نشان خدا تعالیٰ سے مانگتا رہے۔حضرت مسیح نے بھی مختصر لفظوں میں یہی سکھایا تھا۔دیکھو متی باب 8 آیت 9۔پس تم اسی طرح دعا مانگو کہ اے ہمارے باپ جو آسمان پر ہے تیرے نام کی تقدیس ہو۔( مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 182-181) نبوت کیا ہے یہ ایک جوھر خدا داد ہے اگر کسب سے ہوتا تو سب لوگ نبی ہو جاتے ان کی فطرت ہی اس قسم کی نہیں ہوتی کہ وہ ان بے جا سلسلہ کلام میں مبتلا ہوں۔وہ نفسی کلام کرتے ہی نہیں دوسرے لوگوں میں تو یہ حال ہوتا ہے کہ وہ ان سلسلوں میں کچھ ایسے مبتلا ہوتے ہیں کہ خدا کا خانہ ہی خالی رہتا ہے لیکن نبی ان دونوں سلسلوں سے الگ ہو کر خدا میں کچھ ایسے گم ہوتے ہیں اور اس کے مخاطبہ مکالمہ میں ایسے محو ہوتے ہیں کہ ان سلسلوں کے لئے ان کے دل و دماغ میں سمائی اور گنجایش ہی نہیں ہوتی۔بلکہ اُن کے دل و دماغ میں صرف خدا ہی کا سلسلہ کلام رہ جاتا ہے چونکہ وہی حصہ باقی ہوتا ہے اس لیے خدا ان سے کلام کرتا ہے اور وہ خدا کو مخاطب کرتے رہتے ہیں تنہائی اور بیکاری میں بھی جب ایسے خیالات کا سلسلہ ایک انسان کے اندر پیدا ہوتا ہے اس وقت اگر نبی کو بھی ویسی ہی حالت میں دیکھو تو شاید غلطی اور نا واقعی سے سمجھ لو کہ اب اس کا سلسلہ تو خدا سے کلام کا نہ ہو گا ؟ مگر نہیں وہ ہر وقت خدا ہی سے باتیں کرتا ہے کہ اے خدا میں تجھ سے پیار کرتا ہوں اور تیری رضا کا طالب ہوں۔مجھ پر ایسا فضل کر کہ میں اس نقطہ اور مقام تک پہنچے جاؤں جو تیری رضا کا مقام ہے۔مجھے ایسے اعمال کی توفیق دے جو تیری نظر میں پسندیدہ ہوں دنیا کی آنکھ کھول کہ وہ تجھے پہچانے اور تیرے آستانے پر گرے۔یہ اس کے خیالات ہوتے ہیں اور یہ اسکی آرزوئیں اس میں ایسا محو اور فنا ہوتا ہے کہ دوسرا اس کو شناخت نہیں کر سکتا۔وہ اس سلسلہ کو ذوق کے ساتھ دراز کرتا ہے اور پھر اسی میں اس مقام تک پہنچ جاتا ہے کہ اس کا دل پگھل جاتا ہے اور اس کی روح یہ نکلتی ہے وہ پورے زور اور اطاعت کے ساتھ آستانہ الوہیت پر گرتی اور انتَ رَبِّي اَنتَ ربی کہہ کر پکارتی ہے تب اللہ تعالیٰ کا فضل اور رحم جوش میں آتا ہے اور وہ اس کو مخاطب کرتا اور اپنے کلام سے اس کو جواب دیتا ہے۔یہ ایسا لذیذ سلسلہ ہے کہ ہر شخص اس کو سمجھ نہیں سکتا اور یہ لذت ایسی ہے کہ الفاظ اس کو ادا نہیں کر سکتے۔پس وہ بار بار مستسقی کی طرح باب ربوبیت ہی کو کھنکھنا تارہتا ہے اور وہاں ہی اپنے لیے راحت و آرام پاتا ہے۔وہ دنیا میں ہوتا ہے لیکن دنیا سے الگ ہوتا ہے۔وہ دنیا کی کسی چیز کا آرزومند نہیں ہوتا لیکن دنیا اس کی خادم ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ اس کے قدموں پر دنیا کولا ڈالتا ہے۔(ملفوظات جلد اول صفحہ 240-239)