حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 898 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 898

898 من میزیم بوحی خدائے کہ با من است پیغام اوست چون نفس روح پرورم میں تو اس خدا کی وحی کے سہارے جیتا ہوں جو میرے ساتھ ہے اس کا الہام میرے لیے زندگی بخش سانس کی طرح ہے۔من رخت بردام بعمارات یار خویش دیگر خبر مپرس ازین تیره کشورم میں نے تو اپنے دوست کے گھر میں ڈیرہ ڈال دیا ہے پس تو اس اندھیرے جہان کے متعلق مجھ سے کچھ نہ پوچھ۔عشقش بتاروپود دل من درون شد است مهرش شداست در ره دیں مہر انورم اس کا عشق میرے دل کے رگ وریشہ میں داخل ہو گیا ہے اور اس کی محبت راہ دین میں میرے لیے چمکتا ہوا سورج بن گئی ہے۔راز محبت من و او فاش گرشدے بسیار تن کہ جاں بفشاندے بریں درم اگر میری اور اس کی محبت کا راز ظاہر ہو جاتا۔تو بہت سی خلقت میرے دروازہ پر اپنی جانیں قربان کر دیتی۔(ازالہ اوہام۔ر۔خ۔جلد 3 صفحہ 183-182 ) ( درشین فارسی متر جم صفحه 163) مقام صدق صدیق وہ ہوتا ہے جس کو سچائیوں کا کامل طور پر علم بھی ہو اور پھر کامل اور طبعی طور پر ان پر قائم بھی ہو۔مثلاً اس کو ان معارف کی حقیقت معلوم ہو کہ وحدانیت باری تعالیٰ کیا شے ہے اور اس کی اطاعت کیا شے اور محبت باری عزاسمہ کیا شے اور شرک سے کس مرتبہ اخلاص پر مخلصی حاصل ہوسکتی ہے اور عبودیت کی کیا حقیقت ہے اور اخلاص کی حقیقت کیا اور توبہ کی حقیقت کیا اور صبر اور توکل اور رضا اور محویت اور فنا اور صدق اور وفا اور تواضع اور سخا اور ابتہال اور دعا اور عفو اور حیا اور دیانت اور امانت اور اتقا وغیرہ اخلاق فاضلہ کی کیا کیا حقیقتیں ہیں۔پھر ماسوا اس کے ان صفات فاضلہ پر قائم بھی ہو۔تریاق القلوب۔ر۔خ۔جلد 15 صفحہ 420) صدیق مبالغہ کا صیغہ ہے۔یعنی جو بالکل راست بازی میں فنا شدہ ہو اور کمال درجہ کا پابند راست بازی اور عاشق صادق ہو۔اس وقت وہ صدیق کہلاتا ہے۔یہ ایک ایسا مقام ہے جب ایک شخص اس درجہ پر پہنچتا ہے تو وہ ہر قسم صداقتوں اور راست بازیوں کا مجموعہ اور ان کوشش کرنے والا ہو جاتا ہے جس طرح پر آتشی شیشہ سورج کی شعاعوں کو اپنے اوپر جمع کر لیتا ہے اسی طرح پر صدیق کمالات صداقت کا جذب کرنے والا ہوتا ہے۔بقول شخصے۔زرزر کشد در جہاں گنج گنج جب ایک شی بہت بڑا ذخیرہ پیدا کر لیتی ہے تو اس قسم کی اشیاء کو جذب کرنے کی قوت اس میں پیدا ہو جاتی ہے۔ترجمہ: سونا سونےکواورخزانہ خزانے کو کھینچتا ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 242)