حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 896 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 896

896 مومن میں تکلف نہیں آتا قُلْ مَا اسْتَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَّمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ۔(ص:87) اولیاء اللہ کی بھی ایسی ہی حالت ہوتی ہے کہ ان میں تکلفات نہیں ہوتے۔وہ بہت ہی سادہ اور صاف دل لوگ ہوتے ہیں۔ان کے لباس اور دوسرے امور میں کسی قسم کی بناوٹ اور تصنع نہیں ہوتا مگر اس وقت اگر پیرزادوں اور مشائخوں کو دیکھا جاوے تو ان میں بڑے بڑے تکلفات پائے جاتے ہیں ان کا کوئی قول اور فعل ایسا نہ پاؤ گے جو تکلف سے خالی ہوگو یا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ امت محمدیہ ہی میں سے نہیں ہیں ان کی کوئی اور ہی شریعت ہے ان کی پوشاک دیکھو تو اس میں خاص قسم کا تکلف ہوگا یہاں تک کہ لوگوں سے ملنے جلنے اور کلام میں بھی ایک تکلف ہوتا ہے۔ان کی خاموشی محض تکلف سے ہوتی ہے گویا ہر قسم کی تاثیرات کو وہ تکلف ہی سے وابستہ سمجھتے ہیں برخلاف اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ شان ہے وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ اور ایسا ہی دوسرے تمام انبیاء ورسل جو وقتا فوقتا آئے وہ نہایت سادگی سے کلام کرتے اور اپنی زندگی بسر کرتے تھے۔ان کے قول و فعل میں کوئی تکلف اور بناوٹ نہ ہوتی تھی مگر ان کے چلنے پھرنے اور بولنے میں تکلف ہوتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اپنی شریعت جدا ہے جو اسلام سے الگ اور مخالف ہے۔(ملفوظات جلد چہارم صفحه 417) مقامات مقربین الہی وَ مَنْ يُطِعِ الله وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ الْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَ الصَّلِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا (النساء: 70 ) ہم نماز میں یہ دعا کرتے ہیں کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ اس سے یہی مطلب ہے کہ خدا سے ہم اپنے ترقی ایمان اور بنی نوع کی بھلائی کے لیے چار قسم کے نشان چار کمال کے رنگ میں چاہتے ہیں۔نبیوں کا کمال صدیقوں کا کمال۔شہیدوں کا کمال صلحاء کا کمال۔سو نبی کا خاص کمال یہ ہے کہ خدا سے ایسا علم غیب پاوے جو بطور نشان کے ہو۔اور صدیق کا کمال یہ ہے کہ صدق کے خزانہ پر ایسے کامل طور پر قبضہ کرے یعنی ایسے اکمل طور پر کتاب اللہ کی سچائیاں اس کو معلوم ہو جائیں کہ وہ بوجہ خارق عادت ہونے کے نشان کے صورت پر ہوں اور اس صدیق کے صدق پر گواہی دیں۔اور شہید کا کمال یہ ہے کہ مصیبتوں اور دکھوں اور ابتلاؤں کے وقت میں