حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 882 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 882

882 تو بہ قبول نہ ہونے کا وقت وَ لَنُذِيقَنَّهُم مِّنَ الْعَذَابِ الأدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ (السجدة: 22) ایسے وقت میں جبکہ شرارت انتہاء کو پہنچتی ہے اور قطعی فیصلے کا وقت آ جاتا ہے تو مخالفوں کے حق میں انبیاء علیہم السلام کی بھی دعا قبول نہیں ہوتی۔دیکھو حضرت نوح علیہ السلام نے طوفان کے وقت اپنے بیٹے کنعان کے لئے جو کافروں اور منکروں سے تھا دعا کی اور قبول نہ ہوئی (دیکھو سورہ ہو درکوع 4 ) اور ایسا ہی جب فرعون ڈوبنے لگا تو خدا پر ایمان لایا مگر قبول نہ ہوا۔ہاں اس خاص وقت سے پہلے اگر رجوع کیا جاوے تو البتہ قبول ہوتا ہے وَ لَنُذِيقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ یعنی جب خفیف سے آثار عذاب کے ظاہر ہوں تو اس وقت کی تو بہ قبول ہوتی ہے۔(حقیقۃ الوحی۔ر۔خ۔جلد 22 صفحہ 427) استغفار کی اہمیت روحانی سرسبزی کے محفوظ اور سلامت رہنے کے لئے یا اس سرسبزی کی ترقیات کی غرض سے حقیقی زندگی کے چشمہ سے سلامتی کا پانی مانگنا یہی وہ امر ہے جس کو قرآن کریم دوسرے لفظوں میں استغفار سے موسوم کرتا ہے۔نور القرآن رخ جلد 9 صفحه 357) جو شخص دعوی سے کہتا ہے کہ میں گناہ سے بچتا ہوں وہ جھوٹا ہے جہاں شیرینی ہوتی ہے وہاں چیونٹیاں ضرور آتی ہیں اس طرح نفس کے تقاضا ہائے تو ساتھ لگے ہی ہیں ان سے نجات کیا ہوسکتی ہے خدا کے فضل اور رحمت کا ہاتھ نہ ہو تو انسان گناہ سے نہیں بچ سکتا نہ کوئی نبی نہ ولی اور نہ ان کے لئے یہ فخر کا مقام ہے کہ ہم سے گناہ صادر نہیں ہوتا بلکہ وہ ہمیشہ خدا کا فضل مانگتے تھے اور نبیوں کے استغفار کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ خدا کے فضل کا ہاتھ ان پر رہے ورنہ اگر انسان اپنے نفس پر چھوڑا جاوے تو وہ ہرگز معصوم اور محفوظ نہیں ہو سکتا اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَ بَيْنَ خَطَايَايَ - ادوسری دعائیں بھی استغفار کے اس مطلب کو بتلاتی ہیں۔عبودیت کا ستر یہی ہے کہ انسان خدا کی پناہ کے نیچے اپنے آپ کو لے آوے جو خدا کی پناہ نہیں چاہتا ہے وہ مغرور اور متکبر ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 346) پس استغفار کیا چیز ہے۔یہ اس آلہ کی مانند ہے جس کی راہ سے طاقت اترتی ہے۔تمام راز توحید اس اصول سے وابستہ ہے کہ صفت عصمت کو انسان کی ایک مستقل جائیداد قرار نہ دیا جائے بلکہ اس کے حصول کے لئے محض خدا کو سر چشمہ سمجھا جائے ذات باری تعالی کو تمثیل کے طور پر دل سے مشابہت ہے جس میں مصفا خون کا ذخیرہ جمع رہتا ہے اور انسان کامل کا استغفار ان شرائین اور عروق کی مانند ہے جو دل کے ساتھ پیوستہ ہیں اور خون صافی اس میں سے کھینچتی ہیں اور تمام اعضاء پر تقسیم کرتے ہیں جو خون کی محتاج ہیں۔ریویو آف ریلیجنز جلد 1 نمبر 5 صفحہ 193-187)