حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 883 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 883

883 استغفار کے معانی ثُمَّ أَقِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ۔(البقره:200) استغفار جسکے ساتھ ایمان کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں قرآن شریف میں دو معنے پر آیا ہے۔ایک تو یہ کہ اپنے دل کو خدا کی محبت میں محکم کر کے گناہوں کے ظہور کو جو علیحدگی کی حالت میں جوش مارتے ہیں خدا تعالیٰ کے تعلق کے ساتھ روکنا اور خدا میں پیوست ہو کر اس سے مدد چاہنا۔یہ استغفار تو مقتربوں کا ہے۔جو ایک طرفہ العین خدا سے علیحدہ ہونا اپنی تباہی کا موجب جانتے ہیں اس لئے استغفار کرتے ہیں تا خدا اپنی محبت میں تھامے رکھے۔اور دوسری قسم استغفار کی یہ ہے کہ گناہ سے نکل کر خدا کی طرف بھاگنا اور کوشش کرنا کہ جیسے درخت زمین میں لگ جاتا ہے ایسا ہی دل خدا کی محبت کا اسیر ہو جائے تا پاک نشو و نما پا کر گناہ کی خشکی اور زوال سے بچ جائے اور ان دونوں صورتوں کا نام استغفار رکھا گیا۔کیونکہ غفر جس سے استغفار نکلا ہے ڈھانکنے اور دبانے کو کہتے ہیں۔گویا استغفار سے یہ مطلب ہے کہ خدا اس شخص کے گناہ جو اسکی محبت میں اپنے تئیں قائم کرتا ہے دبائے رکھے۔اور بشریت کی جڑیں تنگی نہ ہونے دے۔بلکہ الوہیت کی چادر میں لیکر اپنی قدوسیت میں سے حصہ دے۔یا اگر کوئی جز گناہ کے ظہور سے تنگی ہوگئی ہو پھر اسکو ڈھانک دے۔اور اسکی برہنگی کے بداثر سے بچائے۔(سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب۔رخ جلد 12 صفحہ 347 346) جب انسان کے اندر محبت کا چشمہ جوش مارتا ہے تو وہ محبت طبعا یہ تقاضا کرتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہو پس محبت کی کثرت کی وجہ سے استغفار کی بھی کثرت ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ خدا سے کامل طور پر پیار کرنے والے ہر دم اور ہر لحظہ استغفار کو اپنا ور در کھتے ہیں اور سب سے بڑھ کر معصوم کی یہی نشانی ہے کہ وہ سب سے زیادہ استغفار میں مشغول رہے۔چشمه مسیحی رخ جلد 20 صفحه 379) الصَّبِرِينَ وَالصَّدِقِينَ وَالْقِنِتِينَ وَالْمُنْفِقِينَ وَ الْمَسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ۔(آل عمران: 18) خدا ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ تم ہر روز صبح کے وقت استغفار کیا کرو۔وہ فرماتا ہے الصَّبِرِينَ وَ الصَّدِقِينَ وَالْقَنِتِينَ وَالْمُنْفِقِينَ وَالْمَسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ پھر فرماتا ہے۔اِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلُ ذَالِكَ مُحْسِنِينَ كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ وَ بِالْأَسْحَارِهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ - ان آیات سے صاف ظاہر ہوتا ہے۔کہ خدائے تعالیٰ ہمیں یہی حکم نہیں کرتا کہ جس وقت تم سے کوئی گناہ سرزد ہو اس وقت استغفار کیا کرو۔بلکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ بغیر گناہوں کے ارتکاب کے بھی ہم استغفار کیا کریں۔ریویو جلد 2 بابت جون 1903 صفحہ 243) سایہ بھی ہو جائے ہے اوقات ظلمت میں جدا پر رہا وہ ہر اندھیرے میں رفیق و غمگسار اس قدر نصرت تو کاذب کی نہیں ہوتی کبھی گر نہیں باور نظیر میں اس کی تم لاؤ دو چار پھر اگر ناچار ہو اس سے کہ دو کوئی نظیر اس مہیمن سے ڈرو جو بادشاہ ہر دو وار یہ کہاں سے سن لیا تم نے کہ تم آزاد ہو کچھ نہیں تم پر عقوبت گو کرو عصیاں ہزار نعة إِنَّا ظَلَمْنَا سنت ابرار ہے زہر منہ کی مت دکھاؤ تم نہیں ہونسلِ مار (براہین احمدیہ حصہ پنجم رخ جلد 21 صفحه 135)