حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 881
881 پڑتا ہے۔اور سب چیزوں کو شل چار پائی فرش و ہمسائے ونگلیاں کوچے باز ارسب چھوڑ چھاڑ کر ایک نئے ملک میں جانا پڑتا ہے۔یعنی اس وطن میں کبھی نہیں آنا۔اس کا نام تو بہ ہے۔معصیت کے دوست اور ہوتے ہیں۔اور تقوی کے دوست اور۔اس تبدیلی کو صوفیاء نے موت کہا ہے۔جو تو بہ کرتا ہے اسے بڑا حرج اٹھانا پڑتا ہے اور کچی تو بہ کے وقت بڑے بڑے حرج اس کے سامنے آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ رحیم کریم ہے وہ جب تک اس کل کا نعم البدل عطانہ فرماوے نہیں مارتا۔إِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ میں یہی اشارہ ہے کہ وہ تو بہ کر کے غریب بیکس ہو جاتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ اسے محبت اور پیار کرتا ہے اور اسے نیکیوں کی جماعت میں داخل کرتا ہے۔تو بہ قبول ہوتی ہے ( ملفوظات جلد اول صفحه (2) إِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ (البقرة:223) یہ سچی بات ہے کہ تو بہ اور استغفار سے گناہ بخشے جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے۔إِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ بچی تو بہ کرنے والا معصوم کے رنگ میں ہوتا ہے پچھلے گناہ تو معاف ہو جاتے ہیں پھر آئندہ کے لیے خدا سے معاملہ صاف کر لے۔اس طرح پر خدا تعالیٰ کے اولیاء میں داخل ہو جائے گا اور پھر اس پر کوئی خوف وحزن نہ ہوگا۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ 595-594) وَ هُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَ يَعْفُوا عَن السَّيَاتِ وَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ۔(الشورى 26) تمہارا خدا وہ خدا ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کی بدیاں ان کو معاف کر دیتا ہے کسی کو یہ دھوکا نہ لگے کہ قرآن شریف میں یہ آیت بھی ہے وَ مَنْ يَّعْمَلُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَةَ (الزلزال:9) یعنی جو شخص ایک ذرہ بھی شرارت کرے گا وہ اس کی سزا پائے گا۔پس یادر ہے کہ اس میں اور دوسری آیات میں کچھ تناقض نہیں کیونکہ اس شر سے وہ شرمراد ہے جس پر انسان اصرار کرے اور اس کے ارتکاب سے باز نہ آوے اور توبہ نہ کرے اسی غرض سے اس جگہ شتر کا لفظ استعمال کیا ہے نہ ذنب کا تا معلوم ہو کہ اس جگہ کوئی شرارت کا فعل مراد ہے جس سے شریر آدمی باز آنا نہیں چاہتا۔ورنہ سارا قرآن شریف اس بارہ میں بھرا پڑا ہے کہ ندامت اور توبہ اور ترک اصرار اور استغفار سے گناہ بخشے جاتے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ تو بہ کرنے والوں سے پیار کرتا ہے۔چشمه معرفت - ر- خ- جلد 23 صفحہ 24 وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَقَوْمِ لِمَ تُؤْذُونَنِى وَقَدْ تَعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللهِ ط اِلَيْكُمْ ، فَلَمَّا زَاغُوا اَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ ، وَ اللَّهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفَسِقِينَ۔(الصف:6) جب انہوں نے کبھی اختیار کی تو خدا نے ان کو سچ کر دیا۔اس کا نام مہر ہے لیکن ہمارا خدا ایسا نہیں کہ پھر اس مُمبر کو دور نہ کر سکے۔چنانچہ اس نے اگر مُہر لگنے کے اسباب بیان کئے ہیں تو ساتھ ہی وہ اسباب بھی بتلا دیئے ہیں جن سے یہ مہر اُٹھ جاتی ہے جیسے کہ یہ فرمایا ہے إِنَّهُ كَانَ لِلَا وَّابِينَ غَفُورًا۔(بنی اسرائیل: 26) ( ملفوظات جلد سوم صفحه 425)