حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 880 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 880

880 توبہ کی شرائط تو به در اصل حصول اخلاق کے لئے بڑی محرک اور مؤید چیز ہے اور انسان کو کامل بنادیتی ہے یعنی جو شخص اپنے اخلاق ستیہ کی تبدیلی چاہتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ بچے دل اور پکے ارادے کے ساتھ تو بہ کرے۔یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ تو بہ کیلئے تین شرائط ہیں بدوں ان کی تعمیل کے کچی تو بہ جسے توبتہ النصوح کہتے ہیں حاصل نہیں ہوتی۔ان ہر سہ شرائط میں سے پہلی شرط جسے عربی زبان میں اقلاع کہتے ہیں یعنی ان خیالات فاسدہ کو دور کر لیا جاوے جوان خصائل ردیہ کے محرک ہیں۔۔۔۔دوسری شرط ندم ہے یعنی پشیمانی اور ندامت ظاہر کرنا۔ہر انسان کا کانشنس اپنے اندر یہ قوت رکھتا ہے کہ وہ اس کو ہر برائی پر متنبہ کرتا ہے مگر بد بخت انسان اس کو معطل چھوڑ دیتا ہے پس گناہ اور بدی کے ارتکاب پر پشیمانی ظاہر کرے اور یہ خیال کرے کہ یہ لذات عارضی اور چند روزہ ہیں اور پھر یہ بھی سوچے کہ ہر مرتبہ اس لذت اور حظ میں کمی ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ بڑھاپے میں اگر جبکہ قومی بیکار اور کمزور ہو جاویں گے آخر ان سب لذات دنیا کو چھوڑ نا ہو گا۔پس جب کہ خود زندگی ہی میں یہ سب باتیں چھوڑ جانے والی ہیں تو پھر ان کے ارتکاب سے کیا حاصل ہے۔بڑا ہی خوش قسمت ہے وہ انسان جو تو بہ کی طرف رجوع کرے اور جس میں اول اقلاع کا خیال پیدا ہو یعنی خیالات فاسدہ و تصورات بے ہودہ کو قلع و قمع کرے تب یہ نجاست اور نا پا کی نکل جاوے تو پھر نادم ہو اور اپنے کئے پر پشیمان ہو۔تیسری شرط عزم ہے۔یعنی آئندہ کے لئے مصم ارادہ کرلے کہ پھر ان برائیوں کی طرف رجوع نہ کروں گا اور جب وہ مداومت کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے سچی توبہ کی توفیق عطا کرے گا یہاں تک کہ وہ سیئات اس سے قطعاً زائل ہو کر اخلاق حسنہ اور افعال حمیدہ اس کی جگہ لے لیں گے اور یہ فتح ہے اخلاق پر۔اس پر قوت اور طاقت بخشنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے کیونکہ تمام طاقتوں اور قوتوں کا مالک وہی ہے جیسے فرمایا إِنَّ الْقُوَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا (البقرة : 166) ( ملفوظات جلد اول صفحہ 88-87) حضرت اقدس کی بیعت۔بیعت تو بہ ہے إِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ (البقرة:223) اسی طرح بیعت میں عظیم الشان بات تو بہ ہے۔جس کے معنے رجوع کے ہیں۔توبہ اس حالت کا نام ہے۔کہ انسان اپنے معاصی سے جس سے اس کے تعلقات بڑھے ہوئے ہیں۔اور اس نے اپنا وطن انھیں مقرر کر لیا ہوا ہے۔گویا کہ گناہ میں اس نے بود و باش مقرر کر لی ہوئی ہے۔تو تو بہ کے معنے یہ ہیں۔کہ اس وطن کو چھوڑنا اور رجوع کے معنے پاکیزگی کو اختیار کرنا۔اب وطن کو چھوڑ نا بڑا گراں گزرتا ہے۔اور ہزاروں تکلیفیں ہوتی ہیں۔ایک گھر جب انسان چھوڑتا ہے تو کس قدر سے تکلیف ہوتی ہے اور وطن کو چھوڑنے میں تو اس کو سب یار دوست سے قطع تعلق کرنا