حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 879 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 879

879 چاہے۔سالک جب تک اللہ تعالیٰ سے قوت نہ پائے گا۔کیا کر سکے گا۔توبہ کی تو فیق استغفار کے بعد ملتی ہے۔اگر استغفار نہ ہو تو یقیناًیا درکھو کہ تو بہ کی قوت مرجاتی ہے۔پھر اگر اس طرح پر استغفار کرو گے اور پھر تو بہ کرو گے تو نتیجہ یہ ہو گا - يُمَتِعُكُمُ مَّتَاعًا حَسَنًا إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى (هود: 4) سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ اگر استغفار اور توبہ کرو گے تو اپنے مراتب پالو گے۔ہر ایک شخص کے لئے ایک دائرہ ہے جس میں وہ مدارج ترقی کو حاصل کرتا ہے۔ہر ایک آدمی نبی رسول صدیق، شہید نہیں ہو سکتا۔غرض اس میں شک نہیں کہ تفاضل درجات امر حق ہے۔اس کے آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان امور پر مواطنت کرنے سے ہر ایک سالک اپنی اپنی استعداد کے موافق درجات اور مراتب کو پالے گا۔یہی مطلب ہے آیت کا وَيُؤْتِ كُلَّ ذِى فَضْلٍ فَضْلَۂ لیکن اگر زیادت لے کر آیا ہے تو خدا تعالیٰ اس مجاہدہ میں اس کو زیادت دے دیگا اور اپنے فضل کو پالے گا جو طبعی طور پر اس کا حق ہے۔ذی الفضل کی اضافت ملکی ہے۔مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ محروم نہ رکھے گا۔تو بہ کے معانی ( ملفوظات جلد اول صفحہ 348-349) إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بَعْدَ إِيْمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا أَنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ وَأُولَئِكَ هُمُ الضَّالُونَ۔(ال عمران: 91) تو بہ کا لفظ نہایت لطیف اور روحانی معنے اپنے اندر رکھتا ہے جس کی غیر قوموں کو خبر نہیں یعنی تو بہ کہتے ہیں اس رجوع کو کہ جب انسان تمام نفسانی جذبات کا مقابلہ کر کے اور اپنے پر ایک موت کو اختیار کر کے خدا تعالیٰ کی طرف چلا آتا ہے۔سو یہ کچھ سہل بات نہیں ہے اور ایک انسان کو اسی وقت تائب کہا جاتا ہے جبکہ وہ بکلی نفس امارہ کی پیروی سے دست بردار ہو کر اور ہر ایک تلخی اور ہر ایک موت خدا کی راہ میں اپنے لیے گوارا کر کے آستانہ حضرت احدیت پر گر جاتا ہے تب وہ اس لائق ہو جاتا ہے کہ اس موت کے عوض میں خدا تعالیٰ اس کو زندگی بخشے۔( قادیان کے آریہ اور ہم۔ر۔خ۔جلد 20 صفحہ 448) تو بہ کے معنے ہی یہ ہیں کہ گناہ کو ترک کرنا اور خدا کی طرف رجوع کرنا۔بدی چھوڑ کر نیکی کی طرف آگے قدم بڑھانا۔تو بہ ایک طرف (موت) کو چاہتی ہے جس کے بعد انسان زندہ کیا جاتا ہے اور پھر نہیں مرتا۔تو بہ کے بعد انسان ایسا بن جاوے کہ گویائی زندگی پا کر دنیا میں آیا ہے نہ اس کی وہ چال ہو نہ اس کی وہ زبان نہ ہاتھ نہ پاؤں سارے کا سارا نیا وجود ہو جو کسی دوسرے کے ماتحت کام کرتا ہوا نظر آ جاوے۔دیکھنے والے جان لیں کہ یہ وہ نہیں یہ تو کوئی اور ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ یقین جانو کہ تو بہ میں بڑے بڑے ثمرات ہیں۔یہ برکات کا سر چشمہ ہے۔درحقیقت اولیاء اور صلحاء یہی لوگ ہوتے ہیں جو تو بہ کرتے اور پھر اس پر مضبوط ہو جاتے ہیں وہ گناہ سے دور اور خدا کے قریب ہوتے جاتے ہیں کامل تو بہ کرنے والا شخص ہی ولی قطب اور غوث کہلا سکتا ہے۔اسی حالت میں وہ خدا کا محبوب بنتا ہے۔اس کے بعد بلائیں جو انسان کے واسطے مقدر ہوتی ہیں ٹل جاتی ہیں۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ 147-146)