حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 806
806 حقیقی محبت الہی یا د رکھنا چاہئے کہ خدائے تعالیٰ سے کمال محبت کی یہ علامت ہے کہ محبت میں ظلی طور پر الہی صفات پیدا ہو جائیں اور جب تک ایسا ظہور میں نہ آوے تب تک دعوئی محبت جھوٹ ہے۔محبت کاملہ کی مثال بعینہ لوہے کی وہ حالت ہے جب کہ وہ آگ میں ڈالا جائے اور اس قدر آگ اس میں اثر کرے کہ وہ خود آگ بن جائے۔پس اگر چہ وہ اپنی اصلیت میں لوہا ہے آگ نہیں ہے مگر چونکہ آگ نہایت درجہ اس پر غلبہ کر گئی ہے اس لئے آگ کے صفات اس سے ظاہر ہوتے ہیں۔وہ آگ کی طرح جلا سکتا ہے آگ کی طرح اس میں روشنی ہے۔پس محبت الہیہ کی حقیقت یہی ہے کہ انسان اس رنگ سے رنگین ہو جائے۔( براھین احمدیہ حصہ پنجم۔رخ - جلد 21 صفحہ 124-123) صوفی کہتے ہیں جب تک محبت ذاتی نہ ہو جاوے ایسی محبت کہ بہشت اور دوزخ پر بھی نظر نہ ہو اس وقت تک کامل نہیں ہوتا اس سے پہلے اس کا خدا بہشت اور دوزخ ہوتے ہیں لیکن جب وہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو پھر اس کیلئے اِعْمَلُوا مَاشِمُتُم حم السجدة : 41) کا حکم ہوتا ہے کیونکہ ان کی رضا خدا کی رضا ہوتی ہے۔جب تک یہ حال نہ ہوا ندیشہ ہو تا کہ نیکی ضائع نہ ہو جائے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 631) حضرت اقدس کی بعثت کی علت غائی محبت الہی ہے ہماری بعثت کی علت غائی بھی تو یہی ہے کہ رستہ منزلِ جاناں کے بھولے بھٹکوں، دل کے اندھوں جذام ضلالت کے مبتلاؤں۔ہلاکت کے گڑھے میں گرنے والے کو رباطنوں کو صراط مستقیم پر چلا کر وصال ذات ذوالجلال کا شیریں جام پلایا جاوے اور عرفانِ الہی کے اس نقطہ انتہائی تک ان کو پہنچایا جاوے تا کہ ان کو حیات ابدی و راحت دائمی نصیب ہو اور جوار رحمت ایزدی میں جگہ لے کر مست و سرشار رہیں۔ہماری معیت اور رفاقت کی پاک تاثیرات کے ثمرات حسنہ بالکل صاف ہیں۔ہاں ان کے ادراک کیلئے فہم رسا چاہیئے۔ان کے حصول کے لیے رشد و صفا چاہیئے۔ساتھ ہی استقامت کے لیے انتقا چاہیئے ورنہ ہماری جانب سے تو چار دانگ کے عالم کے کانوں میں عرصہ سے کھول کھول کر منادی ہورہی ہے۔بیآمدم که ره صدق را در خشانم بدلستاں برم آنرا که پارسا باشد کسیکه ساید بال ہماش سود نداد ببایدش که دو روزے بظل ما باشد گلے کہ روئے خزاں کا گہے نخواهد دید بانغ ماست اگر قسمتت رسا باشد را