حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 807 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 807

807 ترجمہ :۔میں اس لئے آیا ہوں کہ سچائی کی راہ دکھاؤں۔اور جو نیک ہے اس کو محبوب تک پہنچاؤں۔ایسا شخص جس کو ہما کا سایہ بھی فائدہ نہیں چاہتا اس کو چاہئے کہ ایک دو دن میرے سائے میں بیٹھے۔وہ پھول جو کبھی خزاں کا منہ نہیں دیکھتا وہ میرے پاس ہے۔اگر تیری قسمت ہے تو لے لے۔ہم نے تو اس مائدہ الہی کو ہر کس و ناکس کے آگے رکھنے میں کوئی دقیقہ باقی نہیں چھوڑ ا مگر آگے ان کی اپنی قسمت و ما علينا الا البلاغ ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 466) إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّةٌ أَسْلِمُ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ۔(البقره: 132) میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ اپنی جماعت کو وصیت کروں اور یہ بات پہنچا دوں کہ آئندہ ہر ایک کا اختیار ہے کہ وہ اسے سنے یا نہ سنے کہ اگر کوئی نجات چاہتا ہے اور حیات طیبہ اور ابدی زندگی کا طلب گار ہے تو وہ اللہ کے لیے اپنی زندگی وقف کرے اور ہر ایک اس کوشش اور فکر میں لگ جاوے کہ وہ اس درجہ اور مرتبہ کو حاصل کرے کہ کہہ سکے کہ میری زندگی میری موت میری قربانیاں میری نمازیں اللہ ہی کے لیے ہیں اور حضرت ابراہیم کی طرح اس کی روح بول اٹھے اَسْلَمُتُ لِرَبِّ الْعَلَمِینَ جب تک انسان خدا میں کھویا نہیں جا تا خدا میں ہو کر نہیں مرتا وہ نئی زندگی پانہیں سکتا۔پس تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو تم دیکھتے ہو کہ خدا کے لیے زندگی کا وقف میں اپنی زندگی کی اصل اور غرض سمجھتا ہوں پھر تم اپنے اندر دیکھو کہ تم میں سے کتنے ہیں جو میرے اس فعل کو اپنے لیے پسند کرتے اور خدا کے لیے زندگی وقف کرنے کو عزیز رکھتے ہیں۔( ملفوظات جلد اول صفحه 370) روئے دلبر از طلبگاراں نمی دارد حجاب می درخشند در خورد می تا بداندر ماہتاب دلبر کا چہرہ طالبوں سے پوشیدہ نہیں ہے وہ سورج میں بھی چمکتا ہے اور چاند میں بھی۔لیکن آں روئے حسین از غافلاں ماند نہاں عشق باید که بردارند از بهرش نقاب لیکن وہ حسین چہر ہ غافلوں سے پوشیدہ ہے سچا عاشق چاہیے تا کہ اس کی خاطر نقاب اٹھائی جائے۔دامن پاکش زنخوتها نمے آید بدست بیچ را ہے نسیت غیر از عجز و درد و اضطراب اس کا مقدس دامن تکبر سے ہاتھ نہیں آتا اس کے لیے کوئی راہ سوائے درد اور بے قراری کے نہیں ہے۔بس خطرناک است راه کوچه یار قدیم جاں سلامت بایدت از خودروی هاسر بتاب اس محبوب از لی کا راستہ بہت خطرناک ہے اگر تجھے جان کی سلامتی چاہیئے تو خودروی کو ترک کر دے۔( در شین فارسی مترجم صفحه 198-197 ) ( برکات الدعا۔ر۔خ۔جلد 6 صفحہ 33)