حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 805
805 پس مبارک وہ مذہب جس کا نام اسلام ہے۔ایسا ہی خدا کی محبت کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَالَّذِينَ آمَنُوا اَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ (البقرة : 166 ) یعنے ایمانداروہ ہیں جو سب سے زیادہ خدا سے محبت رکھتے ہیں۔پھر ایک جگہ فرماتا ہے۔فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكُرِكُمْ آبَاء كُمُ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا (البقرة: 201) یعنے خدا کوالیسایادکر وجیها کہ تم اپنے باپوں کو یاد کرتے تھے بلکہ اس سے زیادہ اور سخت درجہ کی محبت کے ساتھ یاد کرو۔اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے۔قل ان صلوتی و نسکی و محیای و مماتي لله رب العلمين (الانعام: 163) یعنے انکو جو تیری پیروی کرنا چاہتے ہیں یہ کہدے کہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا مرنا اور میرا زندہ رہنا سب اللہ تعالیٰ کیلئے ہے یعنے جو میری پیروی کرنا چاہتا ہے وہ بھی اس قربانی کو ادا کرے۔اور پھر ایک جگہ فرمایا کہ اگر تم اپنی جانوں اور اپنے دوستوں اور اپنے باغوں اور اپنی تجارتوں کو خدا اور اسکے رسول سے زیادہ پیاری چیزیں جانتے ہو تو الگ ہو جاؤ۔جب تک خدا تعالیٰ فیصلہ کرے۔اور ایسا ہی ایک جگہ فرمایا۔وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلى حُبِّهِ مِسْكِيْنًا وَّ يَتِيمًا وَّآسِيْرًا إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا (الدھر 9-10) یعنے مومن وہ ہیں جو خدا کی محبت سے مسکینوں اور یتیموں اور اسیروں کو کھانا کھلاتے ہیں اور انھیں کہتے ہیں کہ ہم محض خدا کی محبت اور اسکے منہ کیلئے تمہیں دیتے ہیں۔ہم تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتے اور نہ شکر گذاری چاہتے ہیں۔(سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب۔ر-خ- جلد 12 صفحہ 368-367) محبت یکطرفہ نہیں ہوتی وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونَ۔(الذريت: 57) میں نے پرستش کے لئے ہی جن و انس کو پیدا کیا ہے۔ہاں یہ پرستش اور حضرت عزت کے سامنے دائمی حضور کے ساتھ کھڑا ہونا بجز محبت ذاتیہ کے ممکن نہیں اور محبت سے مراد یکطرفہ محبت نہیں بلکہ خالق اور مخلوق کی دونوں محبتیں مراد ہیں تا بجلی کی آگ کی طرح جو مرنے والے انسان پر گرتی ہے اور جو اس وقت اس انسان کے اندر سے نکلتی ہے بشریت کی کمزوریوں کو جلا دیں اور دونوں مل کر تمام روحانی وجود پر قبضہ کر لیں۔( براھین احمدیہ حصہ پنجم۔رخ - جلد 21 صفحہ 218-217) قُلْ إِنَّ صَلوتِي وَ نُسُكِي وَ مَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ۔(الانعام: 163) یعنی کہہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا زندہ رہنا اور میرا مرنا سب خدا کے لئے ہے اور جب انسان کی محبت خدا کے ساتھ اس درجہ تک پہنچ جائے کہ اس کا مرنا اور جینا اپنے لئے نہیں بلکہ خدا ہی کے لئے ہو جائے۔تب خدا جو ہمیشہ سے پیار کرنے والوں کے ساتھ پیار کرتا آیا ہے اپنی محبت کو اس پر اتارتا ہے اور ان دونوں محبتوں کے ملنے سے انسان کے اندر ایک نور پیدا ہوتا ہے جس کو دنیا نہیں پہچانتی اور نہ سمجھ سکتی ہے اور ہزاروں صدیقوں اور برگزیدوں کا اس لئے خون ہوا کہ دنیا نے ان کو نہیں پہچانا۔وہ اسی لئے مکار اور خود غرض کہلائے کہ دنیا ان کے نورانی چہرہ کو دیکھ نہ سکی جیسا کہ فرماتا ہے۔يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ (الاعراف: 199) یعنی وہ جو منکر ہیں تیری طرف دیکھتے تو ہیں مگر تو انہیں نظر نہیں آتا۔اسلامی اصول کی فلاسفی - ر۔خ۔جلد 10 صفحہ 384)