حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 770
770 السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرُ وَ أَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِتْ۔(الضحی : 10-12) کیونکہ یہ تمام آیتیں لف نشر مرتب کے طور پر ہیں اور پہلی آیتوں میں جو مدعا مخفی ہے دوسری آیتیں اسکی تفصیل اور تصریح کرتی ہیں مثلاً پہلے فرمایا۔الَم يَجِدُكَ يَتِيما فاوی اس کے مقابل پر یہ فرمایا۔فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرُ یعنی یاد کر کہ تو بھی یتیم تھا اور ہم نے تجھ کو پناہ دی ایسا ہی تو بھی یتیموں کو پناہ دے۔پھر بعد اس آیت کے فرمایا۔وَوَجَدَكَ ضَالَّا فَهَدی اس کے مقابل پر یہ فرمایا۔وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرُ یعنے یاد کر کہ تو ہمارے وصال اور جمال کا سائل اور ہمارے حقائق اور معارف کا طالب تھا سوجیسا کہ ہم نے باپ کی جگہ ہو کر تیری جسمانی پرورش کی ایسا ہی ہم نے استاد کی جگہ ہو کر تمام دروازے علوم کے تجھ پر کھولد ئیے اور اپنے لقا کا شربت سب سے زیادہ عطا فر مایا اور جو تو نے مانگا سب ہم نے تجھ کو دیا سوتو بھی مانگنے والوں کو ر ڈ مت کر اور انکومت جھڑک اور یاد کر کہ تو عائل تھا اور تیری معیشت کے ظاہری اسباب بکلی منقطع تھے سوخدا خود تیرا متولی ہوا اور غیروں کیطرف حاجت لیجانے سے مجھے غنی کر دیا۔نہ تو والد کا محتاج ہوانہ والدہ کا نہ استاد کا اور نہ کسی غیر کیطرف حاجت لیجانے کا بلکہ یہ سارے کام تیرے خدا تعالیٰ نے آپ ہی کر دیئے اور پیدا ہوتے ہی اس نے تجھ کو آپ سنبھال لیا۔سو اس کو شکر بجالا اور ہاجتمندوں سے تو بھی ایسا ہی معاملہ کر۔اب ان تمام آیات کا مقابلہ کر کے صاف طور پر کھلتا ہے کہ اس جگہ ضال کے معنے گمراہ نہیں ہے بلکہ انتہائی درجہ کے تعشق کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ حضرت یعقوب کی نسبت اسی کے مناسب یہ آیت ہے۔اِنَّكَ لَفِی ضَلالِكَ الْقَدِيمِ (يوسف: 96) سويه دونوں لفظ ظلم اور ضلالت اگر چہ ان معنوں پر بھی آتے ہیں کہ کوئی شخص جادہ اعتدال اور انصاف کو چھوڑ کر اپنے شہوات غصبیہ یا بہیمیہ کا تابع ہو جاوے۔لیکن قرآن کریم میں عشاق کے حق میں بھی آئے ہیں جو خدا تعالیٰ کے راہ میں عشق کی مستی میں اپنے نفس اور ا سکے جذبات کو پیروں کے نیچے پھل دیتے ہیں۔اسی کے مطابق حافظ شیرازی کا یہ شعر ہے۔آسمان بار امانت نتوانست کشید قرعه فال بنام من دیوانه زدند اس دیوانگی سے حافظ صاحب حالت تعشق اور شدت حرص اطاعت مراد لیتے ہیں۔( ترجمه: - آسمان محبت الہی کے بوجھ کو برداشت نہ کر سکا تو قرعہ فال مجھے دیوانے کے نام پر نکلا ) ( آئینہ کمالات اسلام -ر خ- جلد 5 صفحہ 170-173 ) انَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا (الفتح : 2-3) یہ آیت فتح مکہ کے وقت اتری۔۔۔عیسائی اس آیت کا اس طرح ترجمہ کرتے ہیں ” ہم نے تجھے ایک صریح فتح دی تا کہ ہم تیرے پہلے اور پچھلے گناہ معاف کریں۔یہ معنے بالصراحت غلط ہیں کیونکہ اس آیت کا ربط ہی بگڑ جاتا ہے۔ایک فتح کو گناہ کی معافی سے کیا تعلق ہے گناہوں کی معافی فتح کا کوئی نتیجہ نہیں ہوسکتا۔یہاں لفظ ذنب سے وہ عیب مراد ہیں۔کفار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا کرتے تھے کہ یہ شخص مفتری اور جھوٹا ہے۔خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح دی جو کہ آپ کی صداقت کی علامت تھی اور اس طرح خداوند تعالیٰ نے آنحضرت کو فتح دے کر ان تمام الزاموں کو دور کر دیا جو کفار آنحضرت صلعم کی طرف منسوب کیا کرتے تھے۔خدائے تعالیٰ نے آپ کے سلسلہ کو پوری کامیابی دی اور آپ کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور اس طرح آپ کی سچائی کی شہادت دی۔ربط کلام ان معنوں کی تائید کرتا ہے۔ریویو آف ریجنز جلد دوم نمبر 6 صفحه 244 ماه جون 1903 )