حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 769
769 اللہ تعالیٰ کا کلام ایسا کہ اس کی تفصیل بعض آیت کی بعض آیت سے ہوتی ہے اول کی تفسیر یہ ہے کہ كَانَ اللَّهُ وَلَمْ يَكُن مَّعَهُ شَيْءٌ آخِرَ کے معنے کے كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانِ۔ہم تو انہی معنوں کو پسند کرتے ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 334) ہیں جو خدا نے بتلائے ہیں۔قرآن لانے والا وہ شان رکھتا ہے کہ يَتْلُوا صُحُفًا مُطَهَّرَةً فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ (البينة: (4) الى کتاب جس میں ساری کتابیں اور ساری صداقتیں موجود ہیں۔کتاب سے مراد اور عام مفہوم وہ عمدہ باتیں ہیں جو بالطبع انسان قابل تقلید سمجھتا ہے۔قرآن شریف ایسی حکمتوں اور معارف کا جامع ہے اور رطب و یابس کا ذخیرہ اس کے اندر نہیں۔ہر ایک چیز کی تفسیر وہ خود کرتا ہے اور ہر ایک قسم کی ضرورتوں کا سامان اس کے اندر موجود ہے۔وہ ہر پہلو سے نشان اور آیت ہے۔اگر کوئی انکار کرے تو ہم ہر پہلو سے اس کا اعجاز ثابت کرنے اور دکھلانے کو تیار ہیں۔(ملفوظات جلد اول صفحہ 52,51) سب سے اول معیار تفسیر صحیح کا شواہد قرآنی ہیں۔یہ بات نہایت توجہ سے یا د رکھنی چاہیئے کہ قرآن کریم اور معمولی کتابوں کی طرح نہیں جو اپنی صداقتوں کے ثبوت یا انکشاف کے لئے دوسرے کا محتاج ہو۔وہ ایک ایسی متناسب عمارت کی طرح ہے جس کی ایک اینٹ ہلانے سے تمام عمارت کی شکل بگڑ جاتی ہے۔اس کی کوئی صداقت ایسی نہیں ہے جو کم سے کم دس یا ہمیں شاہد اس کے خود اسی میں موجود نہ ہوں۔سواگر ہم قرآن کریم کی ایک آیت کے ایک معنے کریں تو ہمیں دیکھنا چاہیئے کہ ان معنوں کی تصدیق کیلئے دوسرے شواہد قرآن کریم سے ملتے ہیں یا نہیں۔اگر دوسرے شواہد دستیاب نہ ہوں بلکہ ان معنوں کی دوسری آیتوں سے صریح معارض پائے جاویں تو ہمیں سمجھنا چاہیئے کہ وہ معنی بالکل باطل ہیں کیونکہ ممکن نہیں کہ قرآن کریم میں اختلاف ہو اور بچے معنوں کی یہی نشانی ہے کہ قرآن کریم میں سے ایک لشکر شواہد بینہ کا اس کا مصداق ہو۔( برکات الدعاء۔ر۔خ۔جلد 6 صفحہ 18-17 ) سیاق و سباق آیت کے مطابق معانی جو شخص قرآن کریم کی اسالیب کلام کو بخوبی جانتا ہے اسپر یہ پوشیدہ نہیں کہ بعض اوقات وہ کریم و رحیم جلشانہ اپنے خواص عباد کے لئے ایسا لفظ استعمال کر دیتا ہے کہ بظاہر بدنما ہوتا ہے مگر معنا نہایت محمود اور تعریف کا کلمہ ہوتا ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ نے اپنے نبی کریم کے حق میں فرمایا۔وَوَجَدَكَ ضَالَّا فَھدی اب ظاہر ہے کہ ضال کے معنے مشہور اور متعارف جو اہل لغت کے منہ پر چڑھے ہوئے ہیں گمراہ کے ہیں جس کے اعتبار سے آیت کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے (اے رسول اللہ ) تجھ کو گمراہ پایا اور ہدایت دی۔حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کبھی گمراہ نہیں ہوئے اور جو شخص مسلمان ہو کر یہ اعتقاد رکھے کہ کبھی آنحضرت صلعم نے اپنی عمر میں ضلالت کا عمل کیا تھا تو وہ کا فربے دین اور حد شرعی کے لائق ہے بلکہ آیت کے اس جگہ وہ معنی لینے چاہیئے جو آیت کے سیاق اور سباق سے ملتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ اللہ جل شانہ نے پہلے آنحضرت صلعم کی نسبت فرمایا۔الـمُ يَجِدُكَ يَتِيمًا فَاوَى وَوَجَدَكَ ضَالَّا فَهَدَى وَوَجَدَكَ عَائِلاً فَاغْنى۔(الضحى: 7-9) یعنی خدا تعالیٰ نے تجھے یتیم اور بیکس پایا اور اپنے پاس جگہ دی اور تجھ کو ضال ( یعنی عاشق وجہ اللہ ) پایا۔پس اپنی طرف کھینچ لایا اور تجھے درویش پایا پس غنی کر دیا۔ان معنوں کی صحت پر یہ ذیل کی آیتیں قرینہ ہیں جو انکے بعد آتی ہیں یعنی یہ کہ فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرُ وَ أَمَّا