حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 751 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 751

751 فہم قرآن اور اصحاب عقل و دانش وَتِلْكَ الأمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَ مَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَلِمُونَ (العنكبوت: 44) جس طرح آفتاب کا قدر آنکھ ہی سے پیدا ہوتا ہے اور روز روشن کے فوائد اہل بصارت ہی پر ظاہر ہوتے ہیں اسی طرح خدا کی کلام کا کامل طور پر انہیں کو قدر ہوتا ہے کہ جو اہل عقل ہیں جیسا کہ خدائے تعالیٰ نے آپ فرمایا ہے و تِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ وَ مَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَلِمُونَ یعنی یہ مثالیں ہم لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں پر ان کو معقول طور پر وہی سمجھتے ہیں کہ جو صاحب علم اور دانشمند ہیں۔( براھین احمدیہ۔۔۔خ۔جلد 1 صفحہ 300-301 حاشیہ نمبر 1) قرآن کریم میں ان لوگوں کو جو عقل سے کام لیتے ہیں اولوالالباب فرمایا ہے۔پھر اس کے آگے فرمایا ہے الَّذِيْنَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَّ قُعُودًا وَّ عَلَى جُنُوبِهِمُ (آل عمران : 192) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دوسرا پہلو بیان کیا ہے کہ اولوالالباب اور عقل سلیم بھی وہی رکھتے ہیں جو اللہ جل شانہ کا ذکر اٹھتے بیٹھتے کرتے ہیں۔یہ گمان نہ کرنا چاہیئے کہ عقل و دانش ایسی چیزیں ہیں جو یونہی حاصل ہوسکتی ہیں۔نہیں بلکہ سچی فراست اور کچی دانش اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیے بغیر حاصل ہی نہیں ہو سکتی۔اسی واسطے تو کہا گیا ہے کہ مومن کی فراست سے ڈرو۔کیونکہ وہ الہی نور سے دیکھتا ہے صیح فراست اور حقیقی دانش جیسا میں نے ابھی کہا کبھی نصیب نہیں ہو سکتی جب تک تقویٰ میسر نہ ہو۔اگر تم کامیاب ہونا چاہتے ہو تو عقل سے کام لو۔فکر کرو۔سوچو۔تدبر اور فکر کے لیے قرآن کریم میں بار بار تاکیدمیں موجود ہیں۔کتاب مکنون اور قرآن کریم میں فکر کرو اور پار ساطبع ہو جاؤ۔جب تمہارے دل پاک ہو جائیں گے۔اور ادھر عقل سلیم سے کام لو گے اور تقویٰ کی راہوں پر قدم مارو گے۔پھر ان دونوں کے جوڑ سے وہ حالت پیدا ہو جائے گی کہ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبُحْنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (ال عمران : 192) تمہارے دل سے نکلے گا۔اس وقت سمجھ میں آجائیگا کہ یہ مخلوق عبث نہیں بلکہ صانع حقیقی کی حقانیت اور ثبات پر دلالت کرتی ہے تا کہ طرح طرح کے علوم و فنون جو دین کو مدد دیتے ہیں ظاہر ہوں۔( ملفوظات جلد اول صفحه 41-42 ) عقل روح کی صفائی سے پیدا ہوتی ہے۔جس جس قدر انسان روح کی صفائی کرتا ہے اسی اسی قدر عقل میں تیزی پیدا ہوتی ہے اور فرشتہ سامنے کھڑا ہو کر اس کی مدد کرتا ہے مگر فاسقانہ زندگی والے کے دماغ میں روشنی نہیں آسکتی۔تقویٰ اختیار کرو کہ خدا تمہارے ساتھ ہو۔تقویٰ اور خدا ترسی علم سے پیدا ہوتی ہے جیسا کہ خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَموا (فاطر: 29) یعنی اللہ تعالیٰ سے وہی لوگ ڈرتے ہیں جو عالم ہیں۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی علم خشیت اللہ کو پیدا کر دیتا ہے اور خدا تعالیٰ نے علم کو تقویٰ سے وابستہ کیا ہے کہ جو شخص پورے طور پر عالم ہو گا اس میں ضرور خشیت اللہ پیدا ہوگی۔علم سے مراد میری دانست میں علم القرآن ہے اس سے فلسفہ سائنس یا اور علوم مروجہ مراد نہیں کیونکہ ان کے حصول کے لئے تقویٰ اور نیکی کی شرط نہیں بلکہ جیسے ایک فاسق فاجر ان کو سیکھ سکتا ہے ویسے ہی ایک دیندار بھی۔لیکن علم القرآن بحجر متقی اور دیندار کے کسی دوسرے کو دیا ہی نہیں جاتا۔پس اس جگہ علم سے مراد علم القرآن ہی ہے جس سے تقویٰ اور خشیت پیدا ہوتی ہے۔( ملفوظات جلد دوئم صفحہ 717) ( ملفوظات جلد چہارم صفحه 599)