حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 752
752 فہم قرآن اور عاجزی و انکساری لَوْ أَنْزَلْنَا هَذَا الْقُرْآنَ عَلَى جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللهِ وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ۔(الحشر: 22) یہ قرآن جو تم پر اتارا گیا اگر کسی پہاڑ پر اتار جاتا تو وہ خشوع اور خوف الہی سے ٹکڑرہ ٹکڑہ ہوجاتا اور یہ مثالیں ہم اس لئے بیان کرتے ہیں کہ تالوگ کلام الہی کی عظمت معلوم کرنے کے لئے غور اور فکر کریں۔سرمه چشم آریہ۔رخ۔جلد 2 صفحہ 63 حاشیہ) ایک تو اس کے یہ معنے ہیں کہ قرآن شریف کی ایسی تاثیر ہے کہ اگر پہاڑ پر وہ اتر تا تو پہاڑ خوف خدا سے ٹکڑے ٹکرے ہو جاتا اور زمین کے ساتھ مل جاتا۔جب جمادات پر اس کی ایسی تاثیر ہے تو بڑے ہی بیوقوف وہ لوگ ہیں جو اس کی تاثیر سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور دوسرے اس کے معنے یہ ہیں کہ کوئی شخص محبت الہی اور رضائے الہی کو حاصل نہیں کر سکتا جب تک دو صفتیں اس میں پیدا نہ ہو جائیں۔اول تکبر کو توڑنا جس طرح کہ کھڑا ہوا پہاڑ جس نے سر اونچا کیا ہوا ہوتا ہے گر کر زمین سے ہموار ہو جائے۔اسی طرح انسان کو چاہئے کہ تمام تکبر اور بڑائی کے خیالات کو دور کرے۔عاجزی اور خاکساری کو اختیار کرے اور دوسرا یہ ہے کہ پہلے تمام تعلقات اس کے ٹوٹ جائیں جیسا کہ پہاڑ گر کر متصدعا ہو جاتا ہے۔اینٹ سے اینٹ جدا ہو جاتی ہے ایسا ہی اسکے پہلے تعلقات جو موجب گندگی اور الہی نارضامندی تھے وہ سب تعلقات ٹوٹ جائیں اور اب اس کی ملاقاتیں اور دوستیاں اور محبتیں اور عداوتیں صرف اللہ تعالیٰ کے لئے رہ جائیں۔نہیں ملتا وہ دلدار ( ملفوظات جلد اول صفحه (511) تکبر سے ملے جو خاک سے اس کو ملے یار کوئی اس پاک سے جو دل لگاوے کرے پاک آپ کو تب اس کو پاوے پسند آتی ہے اس کو خاکساری تذلیل ہے رہ درگاه باری ( در شین اردو صفحہ 84) (حقیقۃ الوحی - ر - خ- جلد 22 صفحہ 551) به نخوت با نمی آید بدست آن دامن پاکش کسے عزت از و یا بد که سوز درخت عزت را اس کا مقدس دامن تکبر سے ہاتھ نہیں آتا۔اس کے ہاں اسی کو عزت ملتی ہے جو لباس عزت جلا دیتا ہے۔اگر خواصی رہ مولے زلاف علم خالی شو که ره ندهند در کولیش اسیر کبر و نخوت را اگر مولا کی راہ چاہتا ہے تو علم کی شیخی ترک کر کہ اس کے کوچہ میں اسیر کبر و نخوت کو گھنے نہیں دیتے۔منه دل در تنعم ہائے دنیا گر خدا خواہی کہ مے خواہد نگار من تهیدستان عشرت را اگر خدا کا طلبگار ہے تو دنیوی نعمتوں سے دل نہ لگا کہ میرا محبوب ایسے لوگوں کو پسند کرتا ہے جو عیش کے تارک ہوں۔مصفا قطره باید که تا گوہر شود پیدا کجا بیند دلِ نا پاک روئے پاک حضرت را پانی کا مصفا قطرہ چاہئے تا کہ اس سے موتی پیدا ہو۔نا پاک دل خدا کے چہرہ کو کہاں دیکھ سکتا ہے۔ہے۔یہ مصرع الہامی ہے۔( در نمین فارسی متر جم صفحه 186 ) ( آئینہ کمالات اسلام -رخ- جلد 5 صفحہ 55)