حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 749
749 یہ کہنا کہ ہمارے لیے قرآن اور احادیث کافی ہیں اور صحبت صادقین کی ضرورت نہیں یہ خود مخالفت تعلیم قرآن ہے کیونکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَكُونُوا مَعَ الصَّدِقِيْنَ اور صادق وہ ہیں جنہوں نے صدق کو علی وجہ البصیرت شناخت کیا اور پھر اس پر دل و جان سے قائم ہو گئے اور یہ اعلیٰ درجہ بصیرت کا بجز اس کے ممکن نہیں که سماوی تائید شامل حال ہو کر اعلیٰ مرتبہ حق الیقین تک پہنچا د یوے۔پس ان معنوں کر کے صادق حقیقی انبیاء اور رسل اور محدث اور اولیاء کاملین مکملین ہیں۔جن پر آسمانی روشنی پڑی اور جنہوں نے خدا تعالے کو اسی جہان میں یقین کی آنکھوں سے دیکھ لیا اور آیت موصوفہ بالا بطور اشارت ظاہر کر رہی ہے کہ دنیا صادقوں کے وجود سے کبھی خالی نہیں ہوتی کیونکہ دوام حكم كُونُوا مَعَ الصَّدِقِينَ دوام وجود صادقین کو ستلزم ہے علاوہ اس کے مشاہدہ صاف بتلا رہا ہے کہ جو لوگ صادقوں کی صحبت سے لا پروا ہو کر عمر گزارتے ہیں ان کے علوم و فنون جسمانی جذبات سے ان کو ہرگز صاف نہیں کر سکتے اور کم سے کم اتنا ہی مرتبہ اسلام کا کہ دلی یقین اس بات پر ہو کہ خدا ہے ان کو ہرگز حاصل نہیں ہوسکتا اور جس طرح وہ اپنی اس دولت پر یقین رکھتے ہیں جو ان کے صندوقوں میں بند ہو یا اپنے ان مکانات پر جو ان کے قبضہ میں ہوں ہر گز ان کو ایسا یقین خدا تعالیٰ پر نہیں ہوتا۔وہ سم الفار کھانے سے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ یقینا جانتے ہیں کہ وہ ایک زہر مہلک ہے لیکن گناہوں کی زہر سے نہیں ڈرتے۔صدق اور تائید الہی شہادت القرآن - ر-خ- جلد 6 صفحہ 347) غرض صدق ایسی شے ہے جو انسان کو مشکل سے مشکل وقت میں بھی نجات دلا دیتی ہے سعدی نے سچ کہا ہے کہ کس ندیدم کہ گم شد از ره راست۔پس جس قدر انسان صدق کو اختیار کرتا ہے اور صدق سے محبت کرتا ہے اسی قدر اس کے دل میں خدا تعالیٰ کے کلام اور انبیاء کی محبت اور معرفت پیدا ہوتی ہے کیونکہ وہ تمام راستبازوں کے نمونے اور چشمے ہوتے ہیں۔كُونُوا مَعَ الصَّدِقِينَ (التوبہ: 119) کا ارشاد اسی اصول پر ہے۔(ملفوظات جلد اول صفحہ 246) صدق را ہر دم مدد آید ز رب العالمیں صادقان را دست حق باشد نہاں در آستیں سچائی کو ہر دم رب العالمین سے مدد پہنچتی ہے صادقوں کی آستین میں خدا کا ہاتھ پوشیدہ ہوتا ہے۔ہر بلا کر آسماں بر صادقی آید فرود آخرش گردد نشانی از برائے طالبیں ہر وہ مصیبت جو آسمان سے کسی صادق پر آتی ہے وہ آخر میں طالبان حق کے لیے ایک نشان ہو جاتی ہے۔( ضرورت الامام۔رخ۔جلد 13 صفحہ 506)( درثمین فارسی متر جم صفحه 245) چوں مرا بخشیده صدق اندریں سوز و گداز نیست امیدم که ناکامم بمیرانی دریں جب تو نے مجھے اس سوز و گداز میں صدق بخشا ہے تو مجھے یہ امید نہیں کہ تو اس معاملہ میں مجھے نا کامی کی موت دیگا۔کاروبار صادقاں ہرگز نماند ناتمام صادقان را دست حق باشد نہاں در آستین بچوں کا کاروبار ہرگز نا مکمل نہیں رہتا۔صادقوں کی آستین میں خدا کا ہاتھ مخفی ہوتا ہے۔(فتح اسلام - رخ۔جلد 3 صفحہ 46 ( درشین فاری متر جم صفحہ 158)