حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 748 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 748

748 دوسرا کمال أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں صدیقوں کا کمال ہے۔اس کمال کے حاصل ہونے پر قرآن شریف کے حقائق اور معارف کھلتے ہیں۔لیکن یہ فضل اور فیض بھی محض انہی تائید سے آتا ہے۔ہمارا تو یہ مذہب ہے کہ خدا تعالیٰ کی تائید اور فضل کے بغیر ایک انگلی کا ہلانا بھی مشکل ہے۔ہاں یہ انسان کا فرض ہے کہ سعی اور مجاہدہ کرے جہاں تک اس سے ممکن ہے اور اس کی توفیق بھی خدا تعالیٰ ہی سے چاہے۔کبھی اس سے مایوس نہ ہو کیونکہ مومن کبھی مایوس نہیں ہوتا جیسا کہ خدا تعالیٰ نے خود بھی فرمایا۔لَا يَايُنَسُ مِنْ رَّوْحِ اللهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ (يوسف: 88) الله تعالیٰ کی رحمت سے کافر ناامید ہوتے ہیں۔نا امیدی بہت ہی بری چیز ہے۔اصل میں نا امید وہ ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ پر بدظنی کرتا ہے یہ خوب یاد رکھو کہ ساری خرابیاں اور برائیاں بدظنی سے پیدا ہوتی ہیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس سے بہت منع کیا ہے اور فرمایا إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ (الحجرات: 13) ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 246) جب انسان إِيَّاكَ نَعْبُدُ کہ کر صدق اور وفاداری کے ساتھ قدم اٹھاتا ہے تو خدا تعالیٰ ایک بڑی نہر صدق کی کھول دیتا ہے جو اس کے قلب پر آ کر گرتی ہے اور اسے صدق سے بھر دیتی ہے وہ اپنی طرف سے بضاعة مزجاة لاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ اعلیٰ درجہ کی گراں قدر جنس اس کو عطا کرتا ہے اس سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ اس مقام میں انسان یہاں تک قدم مارتا ہے کہ وہ صدق اس کے لیے ایک خارق عادت نشان ہو۔اس پر اس قدر معارف اور حقائق کا دریا کھاتا ہے اور ایسی قوت دی جاتی ہے کہ ہر شخص کی طاقت نہیں ہے کہ اس کا مقابلہ کر سکے۔( ملفوظات جلد اول صفحه (253) عزیزاں بے خلوص و صدق نکشایند را ہے را مصفا قطره باید که تا گوھر شود پیدا اے عزیز و بغیر اخلاص اور سچائی کے کوئی راہ نہیں کھل سکتی۔مصفا قطرہ چاہیے تا کہ موتی پیدا ہو۔در شین فارسی مترجم صفحه 169 ) (ازالہ اوہام - ر-خ- جلد 3 صفحہ 546) و معیت صادق اور فہم قرآن ياَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّدِقِينَ۔(التوبة: 119) شریعت کی کتابیں حقائق اور معارف کا ذخیرہ ہوتی ہیں لیکن حقائق اور معارف پر کبھی پوری اطلاع نہیں مل سکتی جب تک صادق کی صحبت اخلاص اور صدق سے اختیار نہ کی جاوے اسی لیے قرآن شریف فرماتا ہے يايها الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّدِقِيْنَ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایمان اور ارتقاء کے مدارج کامل طور پر کبھی حاصل نہیں ہو سکتے جب تک صادق کی معیت اور صحبت نہ ہو کیونکہ اس کی صحبت میں رہ کر وہ اس کے انفاس طیبہ عقد ہمت اور توجہ سے فائدہ اٹھاتا ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 163)