حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 747
747 صدق اور قرآن سے محبت فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِايَتِهِ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الْمُجْرِمُونَ۔(يونس:18) فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا یعنی اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور افترا باندھے یا اس کی آیات کی تکذیب کرے یقیناً یاد رکھو کہ یہ جھوٹ بہت ہی بری بلا ہے انسان کو ہلاک کر دیتا ہے اس سے بڑھ کر جھوٹ کا خطرناک نتیجہ کیا ہوگا کہ انسان خدا تعالیٰ کے مرسلوں اور اس کی آیات کی تکذیب کر کے سزا کا مستحق ہو جاتا ہے۔پس صدق اختیار کرو جس قدر انسان صدق کو اختیار کرتا ہے اور صدق سے محبت کرتا ہے اسی قدر اس کے دل میں خدا کے کلام اور نبیوں کی محبت اور معرفت پیدا ہوتی ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 245-246) صدیق کے مرتبہ پر قرآن کریم کی معرفت اور اس سے محبت اور اس کے نکات و حقائق پر اطلاع ملتی ہے کیونکہ کذب کذب کو کھینچتا ہے اس لئے کبھی بھی کاذب قرآنی معارف اور حقائق سے آگاہ نہیں ہو سکتا یہ وجہ ہے کہ لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة: 80) فرمایا گیا ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 276) قرآنی حقائق و معارف کے بیان کرنے کے لئے قلب کو مناسبت اور کشش اور تعلق حق اور صدق سے ہو ( ملفوظات جلد اول صفحہ 243) جاتا ہے اور پھر یہاں تک اس میں ترقی اور کمال ہوتا ہے کہ وہ مَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَى (النجم: 4) کا مصداق ہو جاتا ہے۔اس کی نگاہ جب پڑتی ہے صدق پر ہی پڑتی ہے اور اس کو ایک خاص قوت اور امتیازی طاقت دی جاتی ہے جس سے وہ حق و باطل میں فی الفور امتیاز کر لیتا ہے یہاں تک کہ اس کے دل میں ایک قوت آجاتی ہے جس کی ایسی تیز جس ہوتی ہے کہ اسے دور سے ہی باطل کی بو آ جاتی ہے یہی وہ سر ہے جو لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة:80) میں رکھا گیا ہے۔قرآں کتاب رحمن سکھلائے راہِ عرفاں جو اسکو پڑھنے والے ان پر خدا کے فیضاں ان پر خدا کی رحمت جو اس پہ لائے ایماں یہ روز کر مبارک سبحـان مــن یــرانـی ہے چشمہ ہدایت جس کو ہو یہ عنایت یہ ہیں خدا کی باتیں ان سے ملے ولایت یہ نور دل کو بخشے دل میں کرے سرایت یہ روز کر مبارک سبـحـــان مــن یــرانـی قرآں کو یاد رکھنا پاک اعتقاد رکھنا فکر معاد رکھنا پاس اپنے زاد رکھنا اکسیر ہے پیارے صدق و سداد رکھنا یہ روز کر مبارک سبحـان مـن یـرانــی ( در نشین اردو ) ( محمود کی آمین۔ر۔خ۔جلد 12 صفحہ 324-323)