حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 742
742 پانچھ میں فصل فہم قرآن اور مقام صدق صدق مجسم قرآن کریم اور آنحضرت صلعم کی ذات ہے وَ مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَ الرَّسُولَ فَأُولئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ مِنَ النَّبِيِّنَ وَالصَّدِيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَ الصَّلِحِينَ وَحَسُنَ أُولئِكَ رَفِيقًا۔(النساء:70) صدیق پر معارف قرآنی کھولے جاتے ہیں اسی طرح جب عام طور پر ایک انسان راستی اور راستبازی سے محبت کرتا ہے اور صدق کو اپنا شعار بنا لیتا ہے۔تو وہی راستی اس عظیم الشان صدق کو کھینچ لاتی ہے جو خدا تعالیٰ کو دکھا دیتی ہے۔صدق مجسم قرآن شریف ہے اور پیکر صدق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک ذات ہے اور ایسا ہی اللہ تعالیٰ کے ماموردو مرسل حق اور صدق ہوتے ہیں۔پس جب وہ اس صدق تک پہنچ جاتا ہے تب اس کی آنکھ کھلتی ہے اور اسے ایک خاص بصیرت ملتی ہے۔جس سے معارف قرآنی اس پر کھلنے لگتے ہیں۔میں اس بات کے ماننے کے لیے کبھی بھی تیار نہیں ہوں کہ وہ شخص جو صدق سے محبت نہیں رکھتا اور راستبازی کو اپنا شعار نہیں بناتا وہ قرآن کریم کے معارف کو سمجھ بھی سکے۔اس لیے کہ اس کے قلب کو اس سے مناسبت ہی نہیں، کیونکہ یہ تو صدق کا چشمہ ہے اور اس سے وہی پی سکتا ہے جس کو صدق سے محبت ہو۔پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ معارف قرآنی صرف اسی بات کا نام نہیں کہ کبھی کسی نے کوئی نکتہ بیان کر دیا۔اس کی تو وہی مثال ہے۔گاه باشد که کود کے ناداں بغلط بر ہدف زند تیرے ترجمہ: کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک نادان بچہ بھی بغیر ہنر کے ہدف پر نشانہ لگا لیتا ہے۔انہیں قرآنی حقائق و معارف کے بیان کرنے کے لیے قلب کو مناسبت اور کشش اور تعلق حق اور صدق سے ہو جاتا ہے اور پھر یہانتک اس میں ترقی اور کمال ہوتا ہے کہ وہ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى (النجم: 4) کا مصداق ہو جاتا ہے۔اس کی نگاہ جب پڑتی ہے۔صدق پر ہی پڑتی ہے۔اور اس کو ایک خاص قوت اور امتیازی طاقت دی جاتی ہے جس سے وہ حق و باطل میں فی الفور امتیاز کر لیتا ہے۔یہانتک کہ اس کے دل میں ایک قوت آجاتی ہے جس کی ایسی تیز جس ہوتی ہے کہ اسے دور سے ہی باطل کی بو آ جاتی ہے۔یہ وہ سر ہے جو لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعہ : 80) میں رکھا گیا ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 243)