حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 741
741 جیسی پاک۔کامل کتاب آپ کے لبوں پر جاری ہوئی۔جس کی فصاحت و بلاغت نے سارے عرب کو خاموش کرا دیا۔وہ کیا بات تھی جس کے سبب سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم علوم میں سب سے بڑھ گئے۔وہ تقومی ہی تھا۔رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مطہر زندگی کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے کہ قرآن شریف جیسی کتاب وہ لائے۔جس کے علوم نے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔آپ کا امی ہونا ایک نمونہ اور دلیل ہے اس امر کی کہ قرآنی علوم یا آسمانی علوم کے لیے تقومی مطلوب ہے نہ دنیوی چالاکیاں۔ہمیں اس یار سے تقویٰ عطا ہے الحکم جلد 5 نمبر 12 مؤرخہ 31 مارچ 1901 صہ 2-3) نہ یہ ہم سے۔کہ احسانِ خدا ہے کرو کوشش اگر صدق و صفا ہے که به حاصل ہو جو شرط لقا ہے نہیں آئینہ خالق نما ہے یہی اک جوہر سیف دعا ہے ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقا ہے اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے (الہامی مصرعہ ) یہی اک فیر شان اولیا ہے بجز تقویٰ زیادت ان میں کیا ہے اگر سوچو یہیں دار الجزاء ہے ڈرو یارو کہ وہ بینا خدا ہے مجھے تقویٰ سے اس نے یہ جزا دی فسبحان الذى اخزى الاعادي عجب گوہر ہے جس کا نام تقویٰ مبارک سنو مسلمانو! وہ ہے جس کا کام تقویٰ ہے حاصل اسلام تقویٰ خدا کا عشق مے اور جام تقویٰ بناؤ تام تقویٰ یہ دولت تو نے مجھ کو اے خدا دی کہاں ایماں اگر ہے خام تقویٰ فسبحان الذي اخزى الاعادي ( در شین اردو)