حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 737 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 737

737 کے حقائق ودقائق انھیں پر کھلتے ہیں جو پاک کئے گئے ہیں۔پس ان آیات سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کے سمجھنے کیلئے ایک ایسے معلم کی ضرورت ہے۔جسکو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پاک کیا ہو۔اگر قرآن کے سیکھنے کے لئے معلم کی حاجت نہ ہوتی تو ابتدائے زمانہ میں بھی نہ ہوتی۔اور یہ کہنا کہ ابتدا میں تو حل مشکلات قرآن کے لئے ایک معلم کی ضرورت تھی لیکن جب حل ہو گئیں تو اب کیا ضرورت ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ حل شدہ بھی ایک مدت کے بعد پھر قابل حل ہو جاتی ہیں ماسوا اسکے امت کو ہر ایک زمانہ میں نئی مشکلات بھی تو پیش آتی ہیں اور قرآن جامع جمیع علوم تو ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ ایک ہی زمانہ میں اسکے تمام علوم ظاہر ہو جائیں بلکہ جیسی جیسی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے ویسے ویسے قرآنی علوم کھلتے ہیں اور ہر یک زمانہ کی مشکلات کے مناسب حال ان مشکلات کو حل کر نیوالے روحانی معلم بھیجے جاتے ہیں جو وارث رسل ہوتے ہیں اور ظلی طور پر رسولوں کے کمالات کو پاتے ہیں اور جس مجدد کی کارروائیاں کسی ایک رسول کی منصبی کارروائیوں سے شدید مشابہت رکھتی ہیں وہ عند اللہ اسی رسول کے نام سے پکارا جاتا ہے۔شہادت القران-رخ- جلد 6 صفحہ 348-347) نور لائے آسماں سے خود بھی وہ اک نور تھے قوم وحشی میں اگر پیدا ہوئے کیا جائے عار صدق سے میری طرف آؤ اسی میں خیر ہے ہیں درندے ہر طرف میں عافیت کا ہوں حصار پشتی ءِ دیوار دیں ہوں مامنِ اسلام ہوں نارسا ہے دست دشمن تا بفرق ایں جدار میں وہ پانی ہوں کہ آیا آسماں سے وقت پر میں وہ ہوں نورِ خدا جس سے ہوا دن آشکار در مشین اردو صفحہ 137 136 ) ( براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 21 صفحہ 144 143) قرآن شریف اس ذوالفقار تلوار کی مانند ہے جس کے دو طرف دھاریں ہیں ایک طرف کی دھار مومنوں کی اندرونی غلاظت کو کاٹتی ہے اور دوسری طرف کی دھار دشمنوں کا کام تمام کرتی ہے مگر پھر بھی وہ تلوار اس کام کے لئے ایک بہادر کے دست و بازو کی محتاج ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یتلوا عليهم ايته ويزكيهم و يعلمهم الکتب پس قرآن سے جوتز کیہ حاصل ہوتا ہے اس کو اکیلا بیان نہیں کیا بلکہ وہ نبی کی صفت میں داخل کر کے بیان کیا یہی وجہ کہ خدا تعالیٰ کا کلام یوں ہی آسمان پر سے کبھی نازل نہیں ہوا بلکہ اس تلوار کو چلانے والا بہادر ہمیشہ ساتھ ہے جو اس تلوار کا اصلی جو ہر شناس ہے لہذا قرآن شریف پر سچا اور تازہ یقین دلانے کے لئے اور اس کے جوہر دکھلانے کے لئے اور اس کے ذریعہ سے اتمام حجت کرنے کے لئے ایک بہادر کے دست و بازو کی ہمیشہ حاجت ہوتی رہی ہے اور آخری زمانہ میں یہ حاجت سب سے زیادہ پیش آئی کیونکہ دجالی زمانہ ہے اور زمین و آسمان کی باہمی لڑائی ہے۔نزول مسیح -ر- خ - جلد 18 صفحہ 468-469)