حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 738
738 قرآن کریم بر سبیل قال نہیں بلکہ برسبیل حال نازل ہوا ہے اب نئے معلموں کی اس وجہ سے بھی ضرورت پڑتی ہے کہ بعض حصے تعلیم قرآن شریف کے از قبیل حال ہیں نہ از قبیل قال۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پہلے معلم اور اصل وارث اس تخت کے ہیں حالی طور پر ان دقائق کو اپنے صحابہ کو سمجھایا ہے مثلاً خدا تعالیٰ کا یہ کہنا کہ میں عالم الغیب ہوں اور میں مجیب الدعوات ہوں اور میں قادر ہوں اور میں دعاؤں کو قبول کرتا ہوں اور طالبوں کو حقیقی روشنی تک پہنچا تا ہوں اور میں اپنے صادق بندوں کو الہام دیتا ہوں اور جس پر چاہتا ہوں اپنے بندوں میں سے اپنی روح ڈالتا ہوں یہ تمام باتیں ایسی ہیں کہ جبتک معلم خود ان کا نمونہ بن کر نہ دکھلاوے تب تک یہ کسی طرح سمجھ ہی نہیں آسکتیں پس ظاہر ہے کہ صرف ظاہری علماء خود اندھے ہیں ان تعلیمات کو سمجھا نہیں سکتے بلکہ وہ تو اپنے شاگردوں کو ہر وقت اسلام کی عظمت سے بدظن کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ باتیں آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہیں اور ان کے اپنے بیانات سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ گویا اسلام اب زندہ مذہب نہیں اور اس کی حقیقی تعلیم پانے کے لئے اب کوئی بھی راہ نہیں۔لیکن ظاہر ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کا اپنی مخلوق کے لئے یہ ارادہ ہے کہ وہ ہمیشہ قرآن کریم کے چشمہ سے ان کو پانی پلا دے تو بیشک وہ اپنے ان قوانین قدیمہ کی رعائیت کرے گا جو قدیم سے کرتا آیا ہے۔اور اگر قرآن کی تعلیم صرف اسی حد تک محدود ہے جس حد تک ایک تجربہ کار اور لطیف الفکر فلاسفر کی تعلیم محدود ہو سکتی ہے اور آسمانی تعلیم جو محض حال کے نمونہ سے سمجھائی جاتی ہے اس میں نہیں تو پھر نعوذ باللہ قرآن کا آنا لا حاصل ہے۔مگر میں جانتا ہوں کہ اگر کوئی ایک دم کے واسطے بھی اس مسئلہ میں فکر کرے کہ انبیاء کی تعلیم اور حکیموں کی تعلیم میں بصورت فرض کرنے صحت ہر دو تعلیم کے مابہ الامتیاز کیا ہے تو بجز اس کے اور کوئی ما بہ الامتیاز قرار نہیں دے سکتا کہ انبیاء کی تعلیم کا بہت سا حصہ فوق العقل ہے جو بجز کا جو ستقیم اور تعلیم کے اور کسی راہ سے سمجھ ہی نہیں آ سکتا۔اور اس حصہ کو وہی لوگ دلنشین کراسکتے ہیں جو صاحب حال ہوں مثلاً ایسے ایسے مسائل کہ اس طرح پر فرشتے جان نکالتے ہیں اور پھر یوں آسمان پر لیجاتے ہیں اور پھر قبر میں حساب اس طور سے ہوتا ہے اور بہشت ایسا ہے اور دوزخ ایسا۔اور پل صراط ایسا۔اور عرش اللہ کو چار فرشتے اٹھارہے ہیں اور پھر قیامت کو آٹھ اٹھا ئیں گے۔اور اس طرح پر خدا اپنے بندوں پر وحی نازل کرتا ہے یا مکاشفات کا دروازہ ان پر کھولتا ہے یہ تمام حالی تعلیم ہے اور مجرد قیل و قال سے سمجھ نہیں آسکتی اور جبکہ یہ حال ہے تو پھر میں دوبارہ کہتا ہوں کہ اگر اللہ جل شانہ نے اپنے بندوں کے لئے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ اس کی کتاب کا یہ حصہ تعلیم ابتدائی زمانہ تک محدود نہ رہے تو بیشک اس نے یہ انتظام کیا ہوگا کہ اس حصہ تعلیم کے معلم بھی ہمیشہ آتے رہیں۔شہادت القرآن۔۔۔خ۔جلد 6 صفحہ 349-348) نوجوان نے عرض کی کہ میں نے عربی بھی ساتھ ساتھ پڑھی ہے۔حضرت نے فرمایا: ہم تو صرف اتنے پر بھی خوش نہیں ہو سکتے۔کیا ہزاروں مولوی ایسے نہیں ہیں جو بڑے بڑے علوم عربیہ کی تحصیل کر چکے ہیں۔مگر پھر بھی وہ اس سلسلہ حقہ کی مخالفت کرتے ہیں اور وہ علوم ان کے واسطے اور بھی زیادہ حجاب کا موجب ہو رہے ہیں۔ہزاروں مولوی ہیں جو بجز گالیاں دینے کے اور کچھ کام نہیں رکھتے بیشک معارف قرآنی کا ذخیرہ سب عربی میں ہے تاہم جب ایک مدت گذر جاتی ہے اور خدا کے ایک رسول کو بہت زمانہ گذر جاتا ہے تب لوگوں کے ہاتھ میں صرف الفاظ ہی رہ جاتے ہیں جن کے معانی اور معارف کسی پر نہیں کھل سکتے جیتک کہ اللہ تعالٰی ان کے واسطے کوئی چابی پیدا نہ کر دے۔جب خدا کی طرف سے راہ کھلتا ہے تب کوئی منور قلب والا زندہ دل پیدا کیا جاتا ہے۔وہ صاحب حال ہوتا ہے اس واسطے اسکی تفسیر درست ہوتی ہے۔زندہ دل کے سوا کچھ نہیں۔یہ باتیں سیدھی ہیں مگر افسوس ہے کہ ان لوگوں کو سمجھ نہیں آتی۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 277)