حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 730 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 730

730 و نور اسی کو عطا کیا جاتا ہے جو خود نور ہو گیا ہو یک قدم دوری ازاں روشن کتاب نزد ما کفر است و خسران و تباب اس نورانی کتاب سے ایک قدم بھی دور رہنا ہمارے نزدیک کفروزیاں اور ہلاکت ہے۔لیک دوناں را بمغزش راه نیست ہر دلے از سر آن آگاه نیست لیکن ذلیل لوگوں کو قرآن کی حقیقت کی خبر نہیں ہر ایک دل اس کے بھیدوں سے واقف نہیں ہے۔تا نباشد طالبے پاک اندروں تا نجوشد عشق یارِ بے چگوں! جب تک طالب حق پاک باطن نہیں ہوتا اور جب تک اس یار بے مثال کا عشق اس کے دل میں جوش نہیں مارتا۔راز قرآن را کجا فهمد کسے بہر نورے نور می باید بسے! تب تک کوئی قرآنی اسرار کو کیونکر سمجھ سکتا ہے نور کے سمجھنے کے لیے بہت سانور باطن ہونا چاہیئے۔ایں نہ من قرآں ہمیں فرموده است اندر و شرط تظهر بوده است یہ میری بات نہیں بلکہ قرآن نے بھی یہی فرمایا ہے کہ قرآن کو سمجھنے کے لیے پاک ہونے کی شرط ہے۔گر بقرآں ہر کسے را راه بود پس چرا شرط تطهر را فزود اگر ہر شخص قرآن کو ( خود ہی سمجھ سکتا۔تو خدائے تطہیر کی شرط کیوں زاید لگائی۔نور را داند کسے کو نور شد واز حجاب سرکشی با دور شد نور کو وہی شخص سمجھتا ہے جو خود نور ہو گیا ہو۔اور سرکشی کے حجابوں سے دور ہو گیا ہو۔(سراج منیر۔ر۔خ۔جلد 12 صفحہ 96)( در مشین فارسی متر جم صفحه 227 226) فان الله نور فيميل الى النور۔وعادته البدور الى البدور۔و لما كانت هذه عادة الله باولياء ه۔و سنته بعباده المنقطعين واصفياء ٥ لزم ان لايرى عبده المقبول وجه ذلة۔لا يُنسب الى ضعف و علة عند مقابلة من اهل ملة و يفوق الكل عند تفسير القرآن۔بانواع علم ومعرفة۔وقد قيل ان الولي يخرج من القرآن والقرآن يخرج من الولى۔وان خفايا القـرآن لا يظهر الا عـلـى الذي ظهر من يدى العليم العلي۔فان كان رجل مَلَكَ ه هذا الفهم الممتاز۔نمثله كمثل رجل اخرج الركاز۔وحده۔( ترجمه از مرتب :۔چونکہ اللہ تعالیٰ نور ہے اس لئے وہ نور ہی سے دوستی رکھتا ہے اور اس کی عادت ہے کہ چودھویں کے چاندوں ہی کو روشن کرتا ہے جبکہ اولیاء اور منقطعین اور اصفیاء سے اللہ کی یہی سنت ہے تو پھر لازم ہے کہ اس کا مقبول انسان کبھی ذلت کا منہ نہ دیکھے اور قوم سے مقابلہ کے وقت اس میں کوئی کمزوری اور کم علمی ظاہر نہ ہو اور وہ تفسیر قرآن میں دیگر سب مفسرین سے بہتر ہو۔اور کہا گیا ہے کہ ولی قرآن سے پیدا ہوتا ہے اور قرآن ولی سے اور قرآن کے مخفی راز صرف اسی پر کھلتے ہیں جو علیم اور اعلیٰ خدا کے ہاتھ سے ظاہر ہوا ہو۔اگر کسی انسان کو قرآن کا ایسا ممتاز فہم عطا ہوا ہے۔تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کہ اس نے ایک مدفون خزینہ معلوم کر لیا ہو۔اعجاز اسیح - ر-خ- جلد 18 صفحہ 47-46)